مسیحی انفاس — Page 422
۴۲۲ ۱۲۹۳ بائبل اور سائنس ۲۹۴ الحکم جلد ۳ نمبر ا صفحه ۸ مورخه ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ء بائبل اور سائنس کی آپس میں ایسی عداوت ہے جیسی کہ دو سو کنیں ہوتی ہیں۔ بائبل میں لکھا ہے کہ وہ طوفان ساری دنیا میں آیا اور کشتی تین سو ہاتھ لمبی اور پچاس ہاتھ چوڑی تھی۔ اور اس میں حضرت نوح نے ہر قسم کے جانوروں میں سے سمات جوڑے اور نا پاک میں سے دو جوڑے ہر قسم کے کشتی میں چڑہائے ۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ اول تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جب تک پہلے رسول کے ذریعہ سے اس کو تبلیغ نہ کی ہو۔ اور حضرت نوح کی تبلیغ ساری دنیاکی قوموں پر کہاں پہنچی تھی جو سب غرق ہو جاتے۔ دوم اتنی چھوٹی سی کشتی میں جو صرف ۳۰۰ ہاتھ لمبی اور ۵۰ ہاتھ چوڑی ہو۔ ساری دنیا کے جانور بہا تم چرند پرند سات سات جوڑے یا دو دو جوڑے کیونکر سما سکتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ہے اور اس میں بہت سی غلطیاں داخل ہو گئیں ہیں۔ تعجب ہے کہ سادہ لوح علماء اسلام نے بھی ان باتوں کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے۔ مگر قرآن شریف ہی ان بے معنی باتوں سے پاک ہے۔ اس پر ایسے اعتراض وارد نہیں ہو سکتے۔ اس میں نہ تو کشتی کی لمبائی چوڑائی کا ذکر ہے اور نہ ساری دنیا پر طوفان آنے کا ذکر ہے۔ بلکہ صرف الارض یعنی وہ زمین جس میں نوح نے تبلیغ کی ۔ صرف اس کا ذکر ہے ۔ اراراٹ جس پر نوح کی کشتی ٹھہری اصل اری ریت ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں ۔ ریت پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے لفظ جو دی رکھا ہے۔ جس کے معنی ہیں میرا جود و کرم یعنی وہ کشتی میرے جو دو کرم پر ٹھہری۔ ملفوظات ۔ جلد ۲ صفحه ۳۲۲، ۳۲۳ مذہب کا خلاصہ دوہی باتیں ہیں۔ اور اصل میں ہر مذہب کا خلاصہ ان دو ہی باتوں پر آکر ٹھیرتا ہے یعنی حق اللہ اور حق العباد ۔ عیسائیوں نے ان دونوں مذہب کا خلاصہ ، حقوق الله و حقوق اصولوں میں سخت بیہودہ بین ظاہر کیا ہے۔ حق اللہ میں تو دیکھ لیا۔ کہ انہوں نے اس خدا العباد کو چھوڑ وڑ دیا جو موسیٰ اور دیگر راست بازوں اور پاکیزہ لوگوں کے وگوں پر ظاہر ہوا تھا اور ایک عاجز انسان کو خدا بنالیا اور حقوق العباد کی وہ مٹی پلید کی کہ کسی طرح وہ درست ہونے میں نہیں