مسیحی انفاس — Page 420
۴۲۰ ۲۹۱ تعدد ازدواج گیا ہے۔ اور اس آیت کا پڑہنے والا فی الفور معلوم کرلے گا۔ کہ اس حکم سے جو کھلے کھلے نظر ڈالنے کی عادت نہ ڈالو۔ یہ مطلب ہے کہ تا لوگ کسی وقت فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اور دونوں طرف مرد اور عورت میں سے کوئی فریق ٹھو کر نہ کھاوے۔ لیکن اور دونوں مرد اور عورت سے کوئی تھو کر نہ ۔ انجیل میں جو بے قیدی اور کھلی آزادی دی گئی اور صرف انسان کی مخفی نیت پر مدار رکھا گیا ہے۔ اس تعلیم کا نقص ہو اہو خامی ایسا امر نہیں ہے کہ اس کی تصریح کی کچھ ضرورت ہو۔ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۳ تا ۱۶۵ نیز دیکھیں۔ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۸ ، ۲۹ عیسائیوں نے جو مسیح کو خدا بناتے ہیں با وجود خدا بنانے کے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا وسی کو ہیں باوجود خدا بنانے کے ان کے ہے۔ اور باتوں کے علاوہ ایک نئی بات مجھے معلوم ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ سے معلوم ہوا ہے کہ جس یوسف کے ساتھ حضرت مریم کی شادی ہوئی اس کی ایک بیوی پہلے بھی موجود تھی۔ اب غور طلب یہ امر ہے کہ یہودیوں نے تو اپنی شرارت سے اور حد سے ظلام بڑھی ہوئی شوخی سے حضرت مسیح کی پیدائش کو نا جائز قرار دیا۔ اور انہوں نے یہ ظلم پر کیا کہ ایک تار کہ اور نذر دی ہوئی لڑکی کا اپنی شریعت کے خلاف نکاح کیا اور پھر حمل میں نکاح کیا۔ اس طرح پر انہوں نے شریعت موسوی کی توہین کی اور بائیں حضرت مسیح کی پاک پیدائش پر نکتہ چینی کی جس کو ہم سن بھی نہیں سکتے۔ ان کے مقابل پر عیسائیوں نے کیا کیا ؟ عیسائیوں نے حضرت مسیح کی پیدائش کو تو بیشک اعتقادی طور پر روح القدس کی پیدائش قرار دیا اور خود خدا ہی کو مریم کے پیٹ سے پیدا کیا مگر تعدد ازدواج کو نا جائز کہہ کر وہی اعتراض اس شکل میں حضرت مریم کی اولاد پر کر دیا۔ اور اس طرح پر خود مسیح اور ان کے دوسرے بھائیوں کی پیدائش پر حملہ کیا۔ واقعی عیسائیوں نے تعدد ازدواج کے مسئلہ پر اعتراض کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ ہم تو حضرت مسیح کی شان بہت بڑی سمجھتے ہیں۔ اور اسے خدا کا سچا اور برگزیدہ نبی مانتے ہیں۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ آپ کی پیدائش باپ کے بدوں خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نمونہ تھی۔ اور حضرت مریم صدیقہ تھیں۔ یہ قرآن کریم کا احسان ہے حضرت مریم پر اور حضرت مسیح پر جو ان کی تطہیر کرتا ہے اور پھر یہ احسان ہے اس زمانہ کے موعود