مسیحی انفاس — Page 415
۴۱۵ گئے۔ نہ اس کا مشاہدہ کیا۔ مگر زمین پر جو خدا کی بادشاہت کی تجلتی ہے ۔ وہ تو صریح ہر ایک شخص کو آنکھوں سے نظر آ نظر آرہی جید ہے۔ ہرا - ہر ایک انسان خواہ کیسا ہی دولت مند ہو اپنی خواہش کے مخالف موت کا پیالہ پیتا ہے۔ پس دیکھو اس شاہ حقیقی کے حکم کی کیسی زمین پر تجلی ہے۔ کہ جب حکم آجاتا ہے تو کوئی اپنی موت کو ایک سیکنڈ بھی روک نہیں سکتا۔ ہر ایک خبیث اور ناقابل علاج مرض جب دامن گیر ہوتی ہے تو کوئی طبیب ڈاکٹر اس کو دور نہیں کر سکتا۔ پس غور کرو۔ یہ کیسی خدا کی بادشاہت کی زمین پر تجلتی ہے۔ جو اس کے حکم رد نہیں ہو سکتے۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں آئے گی۔ دیکھو اسی زمانہ میں خدا کے آسمانی حکم نے طاعون کے ساتھ زمین کو ہلا دیا ۔ تا اس کے مسیح موعود کے لئے ایک نشان ہو۔ پس گون ہے جو اس کی مرضی کے ہوا اس کو دور کر سکے۔ پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ ہاں ایک بد کار قیدیوں کی طرح اس کی زمین میں زندگی بسر کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کبھی نہ مرے۔ لیکن خدا کی کچی بادشاہت اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اور وہ آخر پنجہ ملک الموت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔ دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا اس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور کروڑہا اس کی مرضی سے فقیر سے امیر اور امیر سے فقیر ہو جاتے ہیں۔ پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک زمین پر خدا کی پر بادشاہت نہیں۔ آسمانوں پر تو صرف فرشتے رہتے ہیں۔ مگر زمین پر آدمی بھی ہیں اور فرشتے بھی جو خدا کے کارکن اور اس کی سلطنت کے خادم ہیں جو انسانوں کے مختلف کاموں کے محافظ چھوڑے گئے ہیں۔ اور وہ ہر وقت خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنی رپورٹین بھیجتے رہتے ہیں۔ پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ بلکہ خدا سب سے زیادہ اپنی زمینی بادشاہت سے ہی پہچانا گیا ہے۔ کیونکہ ہر ایک شخص خیال کرتا ہے کہ آسمان کا راز مخفی اور غیر مشہور ہے۔ بلکہ حال کے زمانہ میں آیت وَحَمَلَهَا الانسان بھی دلالت کر رہی ہے کہ خدا کا حقیقی مطیع انسان ہی۔ مان ہی ہے جو اپنی اطاعت کو محبت اور عشق تک پہنچاتا ہے۔ اور خدا کی بادشاہت کو ہزار ہا بلاؤں کو سر پر لے کر زمین پر ثابت کرتا ہے۔ پس یہ طاعت جو درد دل سے ملی ہوئی ہے فرشتے اس کو کب بجالا سکتے ہیں۔ منہ