مسیحی انفاس — Page 403
۲۰ اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔ یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے ۔ پس خشکی کی طرح گناہ اس پر غلبہ کرتا ہے۔ سواس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔ (1) ایک محبت ۔ (۲) استغفار جس کے معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش ۔ کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا کے ساتھ خدا کے ساتھا۔ ہے۔ (۳) تیسر اعلاج تو بہ ہے ۔ ! ذبہ ہے ۔ یعنی زندگی کا پانی کھینچنے۔ کھینچنے کے لئے تدلل کے۔ کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے شیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ اپنے تئیں باہر نکالنا۔ اور توبہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ توبہ کا کمال اعمال ہے بلکہ توبہ کا صالحہ کے ساتھ ہے۔ تمام نیکیاں توبہ کی تکمیل کے لئے ہیں۔ کیونکہ سب سے مطلب یہ ہے کہ خدا سے نزدیک ہو جائیں ۔ دعا بھی تو بہ ہے کیونکہ اس سے بھی ہم خدا کا قرب ڈھونڈھتے ہیں۔ اسی لئے خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام روح رکھا کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں ہے۔ اور اس کا نام نفس رکھا ہے ۔ کیونکہ وہ خدا سے اتحاد پیدا کرنے والا ہے۔ خدا سے دل لگانا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ باغ میں وہ درخت ہوتا ہے جو باغ کی زمین سے خوب پیوستہ ن پیوسته ہوتا ہے ۔ یہی انسان کا جنت ہے ۔ اور جس طرح درخت زمین کے پانی کو چوستا اور اپنے اندر کھینچتا اور اس سے اپنے زہر یلے بخارات باہر نکالتا ہے ۔ اسی طرح انسان کے دل کی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی محبت کا پانی چوس کر زہریلے مواد کے نکالنے پر قوت پاتا ہے اور بڑی آسانی سے ان مواد کو دفع کرتا ہے ۔ اور خدا میں ہو کر پاک نشو نما پاتا جاتا ہے۔ اور بہت پھیلتا اور خوش نما سر سبزی دکھلاتا اور اچھے پھل لاتا ہے۔ مگر ں لاتا ہے۔ مگر جو خدا میں پیوستہ نہیں وہ نشو و نمادینے والے پانی کو چوس نہیں سکتا اس لئے دم بدم خشک ہوتا چلا جاتا ہے۔ آخر پتے بھی گر جاتے ہیں اور خشک اور بد شکل ٹہنیاں رہ جاتی ہیں ۔ پس چونکہ گناہ کی خشکی بے تعلیقی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اس خشکی کے دور کرنے کے لیئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے۔ جس پر قانون قدرت گواہی دیتا ہے اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ کر کے فرماتا ہے ۔ يَتَأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي نوٹ : نفس لغت میں عین شے کے معنے رکھتا ہے ۔ منہ