مسیحی انفاس — Page 392
۳۹۲ ۲۶۸ گئی۔ عیسائیت کے مذہب کو دیکھو کہ وہ ابتداء میں کیسے پاک اصول پر مبنی تھا۔ اور جس تعلیم کو حضرت مسیح علیہ السّلام نے پیش کیا تھا اگر چہ وہ تعلیم قرآنی تعلیم کے مقابل پر ناقص تھی کیونکہ ابھی کامل تعلیم کا وقت نہیں آیا تھا اور کمزور استعداد میں اس لائق بھی نہیں تھیں تاہم وہ تعلیم اپنے وقت کے مناسب حال نہایت عمدہ تعلیم تھی۔ وہ اسی خدا وہ کی عیسائیت کی تعلیم بگڑ طرف رہنمائی کرتی تھی جس کی طرف توریت نے رہنمائی کی ۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد مسیحیوں کا خدا ایک اور خدا ہو گیا جس کا توریت کی تعلیم میں کچھ بھی ذکر 644 نہیں۔ اور نہ بنی اسرائیل کو اس کی کچھ خبر بھی ہے۔ اس نئے خدا پر ایمان لانے سے تمام سلسلہ توریت کا الٹ گیا۔ اور گناہوں سے حقیقی نجات اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے جو ہدایتیں توریت میں تھیں وہ سب درہم برہم ہو وہ سب درہم برہم ہو گئیں۔ اور تمام مدار اور تمام مدار گناہ سے پاک ہونے کا اس اقرار پر آگیا کہ حضرت مسیح نے دنیا کو نجات دینے کے لئے خود صلیب قبول کی اور وہ خدا ہی تھے اور نہ صرف اسی قدیر بلکہ توریت کے اور کئی ابدی احکام توڑ دیئے گئے اور عیسائی مذہب میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہوئی کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی دوبارہ تشریف لے آئیں تو وہ اس مذہب کو شناخت نہ کر سکیں۔ نہایت حیرت کا مقام ہے کہ جن لوگوں کو تورات کی پابندی کی سخت تاکید بھی انہوں نے یک لخت تو رات کے احکام کو چھوڑ دیا ۔ مثلاً انجیل میں کہیں حکم نہیں کہ تورات میں تو سور حرام ہے اور میں تم پر حلال کرتا ہوں ۔ اور توریت میں تو ختنہ کی تاکید ہے اور میں ختنہ کا حکم منسوخ کرتا ہوں ۔ پھر کب جائز تھا کہ جو باتیں حضرت عیسی علیہ السلام کے منہ سے نکلیں وہ مذہب کے اندر داخل کر دی جائیں۔ لیکن چونکہ ضرور تھا کہ ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام دنیا میں قائم کرے اس لئے عیسائیت کا بگڑنا اسلام کے ظہور کے لئے بطور ایک علامت کے تھا۔ لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۴، ۲۰۵ اور منجملہ قرآن کی ضرورتوں کے ایک یہ امر بھی تھا کہ جو اختلاف حضرت مسیح کی نسبت یہود اور نصاری میں واقع تھا اس کو دور کرے ۔ سو قرآن شریف نے ان سب قرآن کریم نے بہودہ جھگڑوں کا فیصلہ کیا۔ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ آیت يَا عِيسَى إِنِّي الي متوفيك نصاری کے اختلاف کو زور وَرَافِعُكَ إلى أسی جھگڑے کے فیصلہ کے لئے ہے۔ کیونکہ یہودی لوگ یہ خیال دور کیا۔