مسیحی انفاس — Page 390
در حقیقت اسی اعتدال اور موزونیت کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے۔ كتابا متشابها - پھر بعد اس کے مثانی کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات معقولی اور روحانی دونوں طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن میں اس قدر عظمت حق کی بھری ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کی سننے سے ان کے دلوں پر تحریرہ پڑ جاتا ہے اور پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل یاد الہی کے لئے بہہ نکلتے نکلتے ہیں۔ ہیں۔ اور اور پھر پھر فرمایا فرم کہ یہ کتاب حق ہے اور نہ نیز میزان حق یعنی یہ حق بھی ہے اور اس کے ذریعہ سے حق شناخت بھی ہو سکتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اتارا۔ پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی بہہ نکلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم ان کے ہر یک مرتبہ فہم اور عقل اور اور اک کی تربیت کرنے والا ہے اور یہ امر مستلزم کمال نام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے اور معارف حقہ کی تمام تشنہ لب اسی سے پانی پیتے ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم کو اس لئے اتارا ہے کہ تاجو پہلی قوموں میں اختلاف ہو گئے ہیں ان کا اظہار کیا جائے۔ اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اور اس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے اور طرح طرح کی برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے امور اس میں بھرے ہوئے ہیں اور اس لائق ہے کہ اس کو تدبر سے دیکھا جائے اور عقلمند اس میں غور کریں اور سخت جھگڑالو اس سے ملزم ہوتے ہیں اور ہر اک شے کی تفصیل اس میں موجود ہے اور یہ ضرورت حقہ کے وقت نازل کیا گیا ہے۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے اور یہ کتاب عزیز ہے باطل کو اس کے آگے پیچھے راہ نہیں اور یہ نور ہے جس کے ذریعہ سے ہدایت دی جاتی ہے ۔ اس میں ہر شے کا بیان موجود دریہ روح ہے اور یہ کتاب عربی فصیح بلیغ میں ہے۔ ب ہے۔ اور تمام صداقتیں غیر متبدل اس میں موجود ہیں۔ ان کو کہہ دے کہ اگر جن وانس اس کی نظیر بنانا چاہیں یعنی وہ صفات کاملہ جو اس کی بیان کی گئی ہیں اگر کوئی ان کی مثل بنی آدم اور جنات میں سے بنانا چاہیں تو یہ ان کے لئے ممکن نہ ہو گا اگرچہ آ ن نہ ہو گا اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ ہے اور یہ کرامات الصادقین ۔ روحانی خزائن جلدی صفحه ۵۶ تا ۵۹ ٣٩٠