مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 632

مسیحی انفاس — Page 388

۳۸۸ ۲۶۵ ہے۔ بذریعہ وحی و الہام مدد نہیں مل سکتی کیونکہ الہام پر جو مہر لگ گئی۔ اور دوسری یہ کہ وہ عملی طور پر آگے قدم نہیں بڑھا سکتی کیونکہ کفارہ نے مجاہدات اور سعی اور کوشش سے روک دیا۔ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۹ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن اور رسول ایک نور ہے جو تمہاری طرف آیا۔ یہ کتاب هر یک حقیقت کو بیان کرنے والی ہے خدا اس کے ساتھ ان لوگوں کو سلامتی کی راہ دکھلاتا توریت اور انجیل مختص ہے جو ہے جو خدا تعالیٰ کی مرضی کی پیروی کرتے ہیں اور وہ ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا الزمان والقوم میں ہے اور سیدھی راہ جو اس تک پہنچتی ہے ان کو دکھلاتا ہے۔ وہی خدا ہے جس نے اپنے قرآن کریم آفاقی رسول کو اس ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اے لوگو ! قرآن ایک برہان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہے اور ایک کھلا کھلانور ہے جو تمہاری طرف اتارا گیا ہے۔ آج تمہارے لئے دین کامل کیا گیا اور تم پر گئیں۔ اور میری رضامندی اس میں محدود ہو گئی کہ تم دین اسلام پر قائم ہو جاو۔ خدا نے نہایت کامل اور پسندیدہ کلام تمہاری طرف اتارا۔ اس کتاب میں یہ خاصیت ہے کہ یہ کتاب متشابہ ہے یعنی اس کی تعلیمات نہ باہم اختلاف رکھتی ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت سے منافی ہیں بلکہ جو کمال انسان کے لئے اس کی فطرت اور اس کے قومی کے لحاظ سے ضروری ہے اس کمال کے مناسب حال اس کتاب کی تعلیم ہے سب نعمتیں پوری کی گئیں ۔ سب اور یہ صفت توریت توریت اور اور ا انجیل کی تعلیم میں نہیں پائی جاتی۔ توریت میں حد سے زیادہ حتی اور انتقام پر زور ڈالا گیا ہے۔ اور وہ تختی ه سختی مطیع اور نافرمان اور دو اور دوست دشمن دونوں کے حق میں ایسے طور سے تجویز کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توریت کی تعلیم کو خاص قوم اور خاص زمانہ کے لحاظ سے یہ مجبوری پیش آگئی تھی کہ سیدھے اور عام قانون قدرت کے موافق توریت کے احکام ان قوموں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تھے ۔ اسی لئے توریت نے اندرونی طور پر یعنی اپنی قوم کے ساتھ یہ سختی کی کہ انتقامی احکام پر زور ڈال دیا اور عفو و در گذر گویا یہودیوں کے لئے حرام کی طرح ہو گئے۔ دانت کے عوض اپنے بھائی کا دانت نکال ڈالنا داخل ثواب سمجھا گیا اور حقوق اللہ میں بھی بہت سخت اور گو یا فوق الطاقت تکلیفیں جن سے معیشت اور تمدن میں حرج ہو ر کھی گئیں ۔ ایسا ہی بیرونی احکام توریت کے بھی زیادہ سخت تھے جن کے رو سے مخالفوں اور نافرمانوں کے دیہات اور شہر