مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 632

مسیحی انفاس — Page 386

۳۸۶ تاثیرات روحانیہ سماویہ کے لحاظ سے مقابلہ کریں۔ حضرت احدیت اس کے حال پر مبذول ہوتی ہیں اور مقبولین میں شمار کیا جاتا ہے اور اس الہام کا صدق ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اس میں ہوتی ہیں اور حقیقت میں ہی پیوند جو او پر لکھا گیا ہے حیات ابدی کی حقیقت ہے۔ کیونکہ زندہ سے پیوند زندگی کا موجب ہے۔ اور جس کتاب کی مطابعت سے اس پیوند کے آثار ظاہر ہو جائیں۔ اس کتاب کی سچائی ظاہر بلکہ اظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ اس میں صرف باتیں ہی باتیں نہیں بلکہ اس نے مطلب تک پہنچا دیا ہے۔ سواب ہم حضرات عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کی انجیل تعلیم راست اور درست اور خدا کی طرف سے ہے تو بمقابلہ قرآن شریف کی روحانی تاثیروں کے جن کا ہم نے ثبوت دے دیا ہے۔ انجیل کی روحانی تاثیریں بھی دکھلائیے۔ اور جو کچھ خدا نے مسلمانوں پر به برکت متابعت قرآن مرات درود شریف اور به یمن اتباع حضرت محمد مصطفے افضل الرسل و خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے امور غیبیہ و برکات سماویہ ظاہر کئے اور کرتا ہے۔ وہ آپ بھی پیش کیجئے۔ تاسیہ روئے شود هر که دروغش باشد ۔ مگر آپ یاد رکھیں کہ آپ دونوں قسم کے امور متذکرہ بالا میں سے کسی امر میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انجیل کی تعلیم کا کامل ہونا ایک طرف تو وہ صحیح بھی نہیں رہی۔ اس نے تو اپنی پہلی ہی تعلیم میں ہی ابن مریم کو ولد اللہ ٹھہرا کر اول الدن در دی دکھلا دیا۔ رہی توریت کی تعلیم سودہ بھی محرف اور ناقص ہونے کی وجہ سے ایک موم کا ناک ہو رہی ہے جس کو عیسائی اپنے طور پر اور یہودی اپنے طور پر بنا رہے ہیں۔ اگر توریت میں الہیات اور عالم معاد کے بارہ میں وہ تفصیلات ہوتیں کہ جو قرآن شریف میں ہیں تو عیسائیوں اور یہودیوں میں اتنے جھگڑے کیوں پڑتے۔ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر سورہ اخلاص کی ایک سطر میں مضمون توحید بھرا ہوا ہے۔ وہ تمام توریت بلکہ ساری بائبل میں نہیں پایا جاتا۔ اور اگر ہے تو کوئی عیسائی ہمارے سامنے پیش کرے۔ پھر جس حالت میں توریت میں بلکہ تمام بائبل میں صحت اور صفائی اور کمالیت سے توحید حضرت باری کا ذکر ہی نہیں۔ اور اسی وجہ سے توریت اور انجیل میں ایک گڑبڑ پڑ گیا اور قطعی طور پر کچھ سمجھ نہ آیا اور خود اصول میں ہی یہودیوں اور نصاری میں طرح طرح کے تنازعات پیدا ہو گئے ۔ اسی توریت سے یہودیوں نے کچھ سمجھا اور عیسائیوں نے کچھ خیال کیا۔ تو اس حالت میں کون حق کا طالب ہے جس کی روح اس بات کو نہیں چاہتی کہ بیشک رحمت عامہ حضرت باری کا یہی مقتضا تھا کہ وہ ا تھا کہ وہ ان گم گشتہ فرقوں کے