مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 632

مسیحی انفاس — Page 384

۳۸۴ جاتے۔ ۲۶۲ توحید کے لحاظ سے ناقص توریت توحید کے بیان کرنے میں ناقص تھی اور انجیل بھی ناقص تھی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ عیسائیوں نے ایک عاجز انسان و خدا بنالیا۔ اگر توریت اور انجیل میں وہ تعلیم موجود ہوتی جو قرآن شریف میں موجود ہے تو ہر گز ممکن نہ تھا کہ اس طرح پر عیسائی گمراہ ہو چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶۸ جاننا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل خیال کرنا سراسر نقصان عقل اور کم فہمی ۲۶۳ ہے۔ خود حضرت مسیح نے انجیل کی تعلیم کو مترا عن النقصان نہیں سمجھا جیسا کہ انہوں یل کی تعلیم کو ہونے نے آپ فرمایا ہے کہ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں ۔ پر تم ان کی انجیل خود ناقص قرار دیا برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح الحق آویگا تو وہ تمہیں صداقت کا راستہ بتلادے گا۔ انجیل یوحناباب ۱۶۔ آیت ۱۲، ۱۳، ۱۴۔ اب فرمائے کیا یہی انجیل ہے کہ جو تمام دینی صداقتوں پر حاوی ہے جس کے ہوتے ہوئے قرآن شریف کی ضرورت نہیں اے حضرات !! جس حالت میں آپ لوگ حضرت مسیح کی وصیت کے موافق انجیل کو کامل اور تمام صداقتوں کے جامع کہنے کے مجاز ہی نہیں۔ تو پھر آپ کا ایمان بھی عجب ایمان ہے کہ اپنے استاد اور رسول کے بر خلاف قدم چلا رہے ہیں ۔ اور جس کتاب کو حضرت مسیح ناقص کہہ چکے ہیں اس کو کامل کہے جاتے ہیں۔ کیا آپ کی سمجھ مسیح کی سمجھ سے کچھ زیادہ ہے یا مسیح کا کہنا قابل اعتبار نہیں۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ اگر چہ انجیل مسیح کے زمانہ میں ناقص تھی۔ مگر مسیح نے یہ بھی بطور پیش گوئی کے کہہ دیا تھا کہ جو باتیں میرے بیان کرنے سے رہ گئی ہیں ان کو تسلی دہندہ آکر بیان کر دے گا تو بہت خوب۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ تسلی کہ اگر وہ تسلی دہندہ جس کے آنے کی مسیح نے انجیل میں بشارت دی ہے اور جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ اپنی دینی صداقتوں کو مرتبہ کمال تک پہنچائے گا اور آئندہ کے حالات یعنی قیامت کی خبریں انجیل کی نسبت بہت مفصل بیان کرے گا۔ آپ کے خیال میں بجز حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن شریف نازل ہوا کہ جو سب کتب سابقہ کی نسبت کامل ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اس کا ثبوت دیتا ہے۔ کوئی اور شخص ہے جس نے حضرت مسیح کے بعد ظہور کر کے دینی صداقتوں کو کمال کے مرتبہ تک پہنچایا۔ اور آئندہ کی خبریں مسیح کی نسبت زیادہ بتلائیں تو اس کا نام بتلانا چاہئے۔ اور ایسی