مسیحی انفاس — Page 378
یادر ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی طرف سے معجزہ ہونے کا دعوی پیش ہوا۔ اور بڑے زور سے یہ دعوی کیا گیا کہ اس کی خبریں اور اس کے قصے غیب گوئی ہے اور آئندہ کی خبریں بھی قیامت تک اس میں درج ہیں ۔ اور وہ اپنی فصاحت و بلاغت کے رو سے بھی معجزہ ہے۔ پس عیسائیوں کے لئے اس وقت یہ بات نہائت سہل تھی کہ وہ بعد تھی کہ وہ بعض قصے نکال کر پیش کرتے کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے چوری کی ہے۔ اس صورت میں اسلام کا تمام کاروبار سرد ہو جاتا۔ مگر اب تو بعد از مرگ واویلا ہے ۔ عقل ہر گز ہر گز قبول نہیں کر سکتی کہ عرب کے عیسائیوں کے پاس در حقیقت ایسی کتابیں موجود تھیں جن کی نسبت گمان ہو سکتا تھا کہ ان کتابوں سے قرآن شریف نے قصے لئے ہیں خواہ وہ کتابیں اصلی تھیں یا فرضی تھیں تو عیسائی اس پردہ دری سے چپ رہتے۔ پس بلاشبہ قرآن نے ر آن شریف کا سارا مضمون وحی الہی سے ہے۔ ا وہ وحی ایسا عظیم الشان معجزہ تھا کہ اس کی نظیر کوئی شخص پیش نہ کر سکا۔ اور سو اور سوچنے کا مقام ہے کہ جو شخص دوسری کتابوں کا چور ہو اور خود مضمون بناوے۔ اور جانتا ہو کہ فلاں فلاں کتاب سے میں نے یہ مضمون لیا ہے اور غیب کی باتیں نہیں ہیں اس کو کب جرات اور حوصلہ ہو سکتا ہے کہ تمام جہان کو مقابلہ کے لئے بلاوے اور پھر کوئی بھی مقابلہ نہ کرے اور کوئی اس کی پردہ دری پر قادر نہ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ عیسائی قرآن شریف پر بہت ہی ناراض ہیں اور ناراض ہونے کی وجہ یہی ہے کہ قرآن شریف نے تمام تما پر وبال عیسائی مذہب کے توڑ دیئے ہیں ۔ ایک انسان کا خدا بنا باطل کر کے دکھلا دیا ۔ صلیبی عقیدہ کو پاش پاش کر دیا۔ اور انجیل کی وہ تعلیم جس پر عیسائیوں کو ناز تھا نہایت درجہ ناقص اور نکما ہونا اس کا بپایہ ثبوت پہنچا دیا۔ اور چشمہ سیچی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۰ تا ۳۴۴ قرآن شریف نے تو اپنی نسبت معجزہ اور بیشل ہونے کا دعوی کر کے اپنی بریت اس طرح ثابت کر دی کہ بلند آواز سے کہہ دیا کہ اگر کوئی اس کو انسانی کلام سمجھتا ہے تو وہ جواب دے لیکن تمام مخالف خاموش رہے ۔ مگر انجیل کو تو اسی زمانہ میں یہودیوں نے مسروقہ قرار دیا تھا اور نہ انجیل نے دعوی کیا کہ انسان ایسی انجیل بنانے پر قادر نہیں۔ پس مسروقہ ہونے کے شکوک انجیل پر عائد ہو سکتے ہیں نہ قرآن شریف پر کیونکہ قرآن کا تو دعوی ہے کہ انسان ایسا قر آن بنانے پر قادر نہیں۔ اور تمام مخالفین نے چپ رہ کر اس دعوی کا سچا ہونا ثابت کر دیا ۔ منہ ۳۷۸