مسیحی انفاس — Page 376
۳۷۶ ۲۵۷ کہہ نہ جعلی۔ عماد الدین اسے الحاقی مانتا ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک حصہ الحاقی مان کر پھر سمانی کہتے ہوئے اسے شرم نہیں آتی مسیح کی لکھی ہوئی انجیل نہیں۔ حواریوں کی زبان عبرانی میں نہیں۔ تیسری مصیبت یہ ہے کہ الحاقی بھی ہے اور پھر آخر یہ کہ یہ تعلیم ادھوری اور ناقص اور نامعقول ہے اور الحاقی یہ اسے پیش کیا جاتا ہے کہ نجات کا اصلی ذریعہ یہی ہے۔ کا ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۷۳، ۱۷۴ اب یہ بھی یادر ہے کہ پادریوں کی مذہبی کتابوں کا ذخیرہ ایک ایسار دی ذخیرہ ہے جو ای- نہایت قابل شرم ہے ۔ وہ لوگ صرف اپنی ہی انکل سے بعض کتابوں کو آسمانی عیسائی ان میں کونہ والی ٹھہراتے ہیں اور بعض کو جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک یہ چار انجیلیں اصلی کر سکتے ہیں کہے ہیں اور باقی جو چپن کے قریب ہیں جعلی ہیں۔ عمر محض گمان اور شکت کے رو سے نہ کسی مستحکم دلیل پر اس پر اس خیال کی بناء ہے ابناء ہے کیونکہ مروجہ انجه مروجہ انجیلوں اور دوسری انجیلوں میں ، میں بہت تناقض ہے اس لئے اپنے گھر میں ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے اور محققین کی یہی رائے ہے کہ کچھ یا اور نہیں کہہ سکتے کہ یہ انجیل میں جعلی ہیں یا وہ جعلی ہیں۔ اسی لئے شاہ ایڈورڈ قیصر کے تخت نشینی کی تقریب پر لنڈن کے پادریوں نے وہ تمام کتابیں جن کو یہ لوگ جعلی تصور کرتے ہیں ان چار انجیلوں کے ساتھ ایک ہی جلد میں مجلد کر کے مبارکبادی کے طور پر بطور نذر پیش کی تھیں۔ اور اس مجموعہ کی ایک جلد ہمارے پاس بھی ہے۔ پس غور کا مقام ہے کہ کی اگر در حقیقت وہ کتابیں گندی اور جعلی اور ناپاک ہوتیں تو پھر پاک اور ناپاک دونوں کو ایک جلد میں مجلد کرنا کس قدر گناہ کی بات تھی ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دلی طمینان سے نہ کسی کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہر سکتے ہیں۔ اپنی اپنی رائیں ہیں اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں۔ ان کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیش گوئی ہے وہ اسی وجہ سے جعلی قرار دی گئی ہے کہ اس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرت کی پیش گوئی موجود ہے۔ چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا۔ غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ یہ لوگ جس کتاب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹا قصہ ہے