مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 632

مسیحی انفاس — Page 374

۳۷۴ ۲۵۴ نہیں۔ دے کر حکیمانہ زندگی کی طرف منتقل کرتی ہیں اور یا حکیمانہ زندگی سے ترقی دے کر فنافی اللہ کی حالت تک پہنچاتی ہیں انہیں باتوں کا نام دوسرے الفاظ میں دین ہے۔ کتاب البریه - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۸، ۸۹ ہے۔ یہ چار عیسائی جس دین کو پیش کرتے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دین نہیں ے۔ بلکہ یہ پادریوں کی اپنی طبیعت کی ایجاد ہے۔ بہت سی انجیلوں : وں میں سے یہ کوئی عبرانی انجیل انجیلیں انتخاب کی گئی ہیں جن کو بعض یونانیوں نے حضرت مسیح سے بہت پیچھے بنا کر عیسائیوں کے پاس حضرت مسیح کی طرف منسوب کر دیا ۔ اور کوئی عبرانی انجیل عیسائیوں کے پاس موجود نہیں ہے اور ناحق افترا کے طور پر حضرت مسیح کو ایک یونانی آدمی تصور کر لیا ہے۔ حالانکہ حضرت مسیح کی مادری بولی عبرائی تھی ۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی حضرت مسیح نے ایک فقرہ یونانی کا بھی پڑھا تھا اور نہ حواریوں نے جو اتی محض تھے کسی مکتب میں یونانی سیکھی بلکہ وہ ہمیشہ ماہی گیروں کے کام کرتے رہے ۔ اب چونکہ عیسائیوں کو یہ سخت مصیبت پیش آئی کہ کوئی عبرانی انجیل موجود نہیں صرف قریبا ساٹھ انجیلیں یونانی میں ہیں جو باہم متناقض ہیں۔ جن میں سے یہ چار چن لی گئیں جو وہ بھی باہم مخالفت رکھتی ہیں بلکہ ہر ایک انجیل اپنی ذات میں بھی مجموعہ تناقضات ہے۔ ان مشکلات کے لحاظ سے یونانی کو اصل زبان ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ اس قدر بیہودہ بات ہے کہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان پادری صاحبوں نے کس قدر جھوٹ اور جع جعلسازی پر کمر باندھی ہے۔ حضرت مسیح کے وقت میں رومی سلطنت تھی اور گورنمنٹ کی لاطینی زبان تھی۔ اور حضرت مسیح کو چونکہ گورنمنٹ سے کوئی تعلق ملازمت نہ تھا اور نہ ریاست اور جاہ طلبی کی خواہش تھی ۔ اس لئے انہوں نے لاطینی کو بھی نہیں سیکھا۔ وہ ایک مسکین اور عاجز اور غریب طبع اور سادہ وضع انسان تھا۔ اس کو وہی بولی یاد تھی جو ناصرہ میں اپنی ماں سے سیکھی تھی یعنی عبرانی جو یہودیوں کی قومی بولی ہے اور اسی بولی میں توریت و غیرہ خدا کی کتابیں تھیں ہے۔ غرض یہ چاروں انجیلس جو یونانی سے ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی صلیب پر جب کہ حضرت مسیح کو موت کا سامنا معلوم ہوتا تھا اس وقت بھی عبرانی فقرہ زبان پر جاری ہوا۔ اور وہ یہ ہے کہ ایلی ایلی لما سبقنانی ۔ منہ ۔