مسیحی انفاس — Page 370
روایت کی اور حسن نے عباس سے اور عباس نے محمد بن عمرو سے اور محمد بن عمرو نے محمد بن مناذر سے۔ اور محمد بن مناذر نے سفیان بن عینیہ سے اور سفیان نے عمرو بن دینار سے اور عمرو بن دینار نے طاؤس سے اور طاؤس نے ابو ہریرہ سے کہا کہ شیطان عیسی کے پاس آیا اور کہا کہ کیا تو گمان نہیں کرتا کہ تو سچا ہے ۔ اس نے کہا کہ کیوں نہیں۔ شیطان نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس پہاڑ پر چڑھ جا اور پھر اس پر سے اپنے تئیں نیچے گرا دے۔ حضرت عیسی نے کہا تجھ پر واویلا ہو کیا تو نہیں جانتا کہ خدا نے فرمایا ہے کہ اپنی موت کے ساتھ میرا امتحان نہ کر کہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۔ اب ظاہر ہے کہ شیطان ایسی طرز سے آیا ہو گا جیسا کہ جبرائیل پیغمبروں کے پاس آتا ہے ۔ کیونکہ جبرائیل ایسا تو نہیں آتا جیسا کہ انسان کسی گاڑی میں بیٹھ کر یا کسی کرایہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اور پگڑی باندھ کر اور چادر اوڑھ کر آتا ہے۔ بلکہ اس کا آنا عالم ثانی کے رنگ میں ہوتا ہے۔ پھر شیطان جو کم تر اور ذلیل تر ہے۔ کیونکر انسانی طور پر کھلے کھلے آسکتا ہے۔ اس تحقیق سے بہر حال اس بات کو ماننا پڑتا ہے جو ڈریپر نے بیان کی ہے۔ لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے قوت نبوت اور نور حقیقت کے ساتھ شیطانی القا کو ہرگز ہرگز نزدیک آنے نہیں دیا۔ اور اس کے ذب اور دفع میں فوراً مشغول ہو گئے۔ اور جس طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی۔ اسی طرح شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ بھاگ گیا۔ ہی إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَان کے صحیح معنے ہیں۔ کیونکہ شیطان کا سلطان یعنی تسلط در حقیقت ان پر ہے جو شیطانی وسوسہ اور الہام کو قبول کر لیتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ دور سے نور کے تیر سے شیطان کو مجروح کرتے ہیں اور اس کے منہ پر زجر اور توبیخ کا جو نہ مارتے ہیں اور اپنے منہ سے وہ کچھ بکے جائے اس کی پیروی نہیں کرتے وہ شیطانی تسلط سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر چونکہ ان کو خدا تعالیٰ ملکوت السماوات و الارض دکھانا چاہتا ہے اور شیطان ملکوت الارض میں سے ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ مخلوقات کے مشاہدہ کا دائرہ پورا کرنے کے لئے اس عجیب الخلقت وجود کا چہرہ دیکھ لیں اور کلام سن لیں جس کا نام شیطان ہے۔ اس سے ان کے دامن تنزہ اور عصمت کو کوئی داغ نہیں لگتا۔ حضرت مسیح سے شیطان نے اپنے قدیم طریقہ وسوسہ اندازی کے طرز پر شرارت سے ایک درخواست کی تھی ۔ سوان کی پاک طبیعت نے فی الفور اس کو رد ٣٧٠