مسیحی انفاس — Page 355
۳۵۵ مدارج کو پورے طور پر بیان نہیں کیا۔ لیکن قرآن نے اس تعلیم کو بھی پورے کمال تک پہنچایا ہے۔ مثلا وہ فرماتا ہے ۔ ان الله یا مرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَائُ ذِي القربي - یعنی خدا حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم احسان کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم لوگوں کی ایسے طور سے خدمت کرو کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے خدمت کرتا ہے۔ یعنی بنی نوع سے تمہاری ہمدردی جوش طبعی سے ہو کوئی ارادہ احسان رکھنے کا نہ ہو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے ہمدردی رکھتی ہے۔ ایسا ہی توریت میں خدا کی ہستی اور اس کی واحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے نہیں دکھلایا۔ لیکن قرآن شریف نے ان عقائد اور نیز ضرورت الہام اور نبوت کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیا ہے اور ہر ایک بحث کو فلسفہ کے رنگ میں بیان بیان کر کے کے حق کے طالبوں پر اس کا سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ اور یہ تمام دلائل ایسے کمال سے قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں کہ کسی میں مقدور نہیں کہ مثلاً ہستی باری پر کوئی ایسی دلیل پیدا کر سکے کہ جو قرآن شریف تمام میں موجود نہ ہو۔ کتاب البریہ - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۳ تا ۸۵ ۲۳۷ جیسے تمام یہودی اب تک باصرار تمام کہتے ہیں کہ مسیح نے انجیل کو ہمارے نبیوں کی کتب مقدسہ سے چرا کر بنا لیا ہے۔ بلکہ ان کے علماء اور اخبار تو کتابیں کھول کھول کر انھیں پہلے نہیوں کی بتلاتے ہیں کہ اس اس جگہ سے فقرات چرائے گئے ہیں۔ اسی طرح دیا سند پنڈت بھی اپنی کہنے سے چرائی تھی تالیفات میں شور مچا رہا ہے کہ توریت ہمارے پستنکوں سے کانٹ چھانٹ کر بنائی گئی توریت پسنکوں سے ہے اور اب تک ہوں وغیرہ کی رسم وید کی طرح اس میں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ بھی تو کانٹ چھانٹ کر بنائی اقرار کرتے ہیں کہ ہندووں کے اصول سے انجیلی تعلیم کو بہت کچھ مشابہت ہے۔ پس گئی ہے۔ اس اقرار سے ہی آپ اپنے مونہہ سے ہندووں کے دعوی کی تصدیق کر رہے ہیں لیکن قرآن شریف ایسا نہیں جس پر یہ الزام عائد ہو سکیں یا کسی بداندیش کا منصوبہ پیش جا پر یہ سکے۔ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۲۳ تا ۳۲۶۔ بقیه حاشیه در حاشیه ۲