مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 632

مسیحی انفاس — Page 345

۳۴۵ یہ نبی حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔ کوئی دوسرا نہیں۔ کیونکہ وہی اسرائیلی نبی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے پہلے گزرے گزرے ہیں۔ پھر ر بعد بعد اس اس ۔ کے اس متواتر خبر پر غور کرنے سے کہ وہ نبی شہزادہ بھی کہلاتا ہے یہ ثبوت نور علی نور ہو جاتا ہے کیونکہ اس مدت میں بجز حضرت عیسی علیہ السّلام کے کوئی نبی شہزادہ کے نام سے مشہور نہیں ہوا۔ پھر یوز آسف کا نام جو یسوع کے لفظ سے بہت ملتا ہے ان تمام یقینی باتوں کو اور بھی قوت بخشتا ہے۔ پھر موقعہ پر پہنچنے سے ایک اور دلیل معلوم ہوئی ہے جیسا کہ نقشہ منسلکہ میں ظاہر ہے اس نبی کا مزار جنوباً و شمالاً واقع ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شمال کی طرف سر ہے اور جنوب کی طرف پیر ہیں اور یہ طرز دفن مسلمانوں اور اہل کتاب سے خاص ہے اور ایک اور تائیدی ثبوت ہے کہ اس مقبرہ کے ساتھ ہی کچھ تھوڑے فاصلے پر ایک پہاڑ کوہ سلیمان کے نام سے مشہور ہے ۔ اس نام سے بھی پتہ ملتا ہے کہ کوئی اسرائیلی نبی اس جگہ آیا تھا ہے ۔ یہ نہایت درجہ کی جہالت ہے کہ اس شہزادہ نبی کو ہندو قرار دیا جائے۔ اور یہ ایسی غلطی ہے کہ ان روشن ثبوتوں کے سامنے رکھ کر اس کے رد کی بھی حاجت نہیں۔ سنسکرت میں کہیں نبی کا لفظ عبرانی اور عربی سے خاص ہے اور دفن کرنا ہندووں کا طریق نہیں اور ہندو لوگ تو اپنے مردوں کو جلاتے ہیں۔ لہذا قبر کی صورت بھی قطعی یقین دلاتی ہے کہ یہ نبی اسرائیلی ہے۔ قبر کے مغربی پہلو کی طرف ایک سوراخ واقع ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس سوراخ سے نہایت عمدہ نہایت قرین قیاس ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر اس ملک میں تبلیغ قوم کے لئے آئے ہوں گے ۔ حال میں جو روسی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے جس کو لنڈن سے میں نے منگوایا ہے وہ بھی اس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے اور جو بعض مصنفوں۔ ں نے واقعات یوز آسف نبی کے لکھتے ہیں ؟ ہیں جن کے یورپ کے ملکوں میں بھی ترجمے پھیل " گئے ہیں ان کو پادری لوگ بھی پڑھ کر اپڑھ کر سخت حیران ہیں کیونکہ وہ تعلیمیں انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت : ملتی ہیں بلکہ اکثر عبارتوں میں توارد معلوم ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی تبتی انجیل کا انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بہت جلد یہ ضرور نہیں کہ سلیمان سے مراد سلیمان پیغمبر ہوں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسرائیلی امیر ہو گا۔ جس کے نام سے یہ پہاڑ مشہور ہو گیا۔ اس امیر کا نام سلیمان ہو گا۔ یہ یہودیوں کی اب تک عادت ہے کہ نبیوں کے نام پر اب تک نام رکھ لیتے ہیں۔ بہر حال اس نام سے بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہود کے فرقہ کی کشمیر میں گذر ہوئی ہے جن کے لئے حضرت عیسٰی کا کشمیر میں آنا ضروری تھا۔ منہ :