مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 632

مسیحی انفاس — Page 18

۱۸ یہ دعوی الوہیت کا جو حضرت مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے یہ کوئی چھوٹا ساد علوی نہیں، ایک عظیم الشان دعوی ہے ۔ حضرت عیسائی صاحبان کے عقیدہ کے رو سے جو شخص حضرت مسیح کی الوہیت کا انکار کرے وہ ہمیشہ کے جہنم میں گرایا جاوے گا اور قرآن خص میں کی کا دعوای اوربیت اور قرآن کریم کی رو سے جو شخص ایسا لفظ منہ پر لاوہے کہ فلاں شخص در حقیقت خدا ہے یا ۴ کریم کی کسوٹی ہے۔ ہے۔ در حقیقت میں ہی خدا ہوں وہ جہنم کے لائق ٹھہرے گا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ومن يقل منهم الى الله من دونه فذلك نجزيه جهنّم كذلك نجزي الظالمين - یعنی جو یہ بات کہے کہ میں خدا ہوں بجز اس سچے خدا کے تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے پھر اس کے اوپر کی آیت یہ وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحانه بل عباد مكرمون - اور عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا پکڑا پاک ہے وہ بیٹوں سے بلکہ یہ بندے عزت دار ہیں سیپارہ ۷ ارکوع ۲ ۔ اور پھر بعد اس کے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے ہاتھ میں کیا ثبوت ہے تو ہمیں ایک ذخیرہ کثیر ثبوتوں کا نظر آتا ہے۔ ایک طرف عقل سلیم انسان کی اس اعتقاد کو دھکے دے رہی ہے اور ایک طرف قیاس استقرائی شہادت دے رہا ہے کہ اب تک اس کی نظیر بجود عومی متنازعہ فیہ کے نہیں پائی گئی اور ایک طرف قرآن کریم جو بے شمار دلائل سے اپنی حقانیت ثابت کرتا ہے۔ اس سے انکاری ہے جیسا کہ فرماتا ہے و يعبدون من دون الله ما لم ينزل به سلطانا وماليس لهم به علم۔ وما لتظلمين من نصير ه ( س ۷ (۱) یعنی عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے ایسی چیز کی جس کی خدائی پر اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان نہیں بھیجا یعنی نبوت پر تو نشان ہوتے ہی ہیں مگر وہ خدائی کے کام میں نہیں آسکتے اور پھر فرماتا ہے کہ رہیں اس عقیدہ کے لئے ان کے پاس کوئی علم بھی نہیں یعنی کوئی ایسی معقولی دلائل بھی نہیں ہے جن سے کوئی عقیدہ پختہ سکے۔ اور پھر فرماتا ہے۔ وقالوا اتخذ الرحمن ولدا - لقد جئتم شيئًا ادا - تكاد السموات يتفطرت منه وتنشق الأرض وتخر الجبال هَدًا - ان دعوا للرحمن ولدا (س۔ (1) اور کہتے ہیں کہ رحمان نے حضرت مسیح کو بیٹا ہو