مسیحی انفاس — Page 341
۳۴۱ شام سے بہت مشابہت ہے۔ پھر جب کہ ملکی مشابہت کے علاوہ قوم بنی اسرائیل بھی اس جگہ موجود تھی تو حضرت مسیح اس ملک کے چھوڑنے کے بعد ضرور کشمیر آئے ہوں گے مگر جاہلوں نے دور دراز زمانہ کے واقعہ کو یاد نہ رکھا اور بجائے عیسی کے موسیٰ یا سلیمان یاد رہ گیا۔ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودہ برس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں تو کر رہا ہوں اور اکثر کشمیر میں ہر ایک عجیب مکان وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا تھا۔ لہذا اس مدت دراز کے تجربہ کے رو سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر بر نیر صاحب نے اس بات کے بیان کرنے میں کہ اہل کشمیر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کشمیر میں موسیٰ کی قبر ہے غلطی کی ہے۔ جو لوگ کچھ مدت کشمیر میں رہے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ کشمیر ید ہوں گے کہ کشمیر میں موسیٰ نبی کے نام سے کوئی قبر مشہور نہیں ڈاکٹر صاحب کو بوجہ اجنبیت زبان کے ٹھیک ٹھیک نام کے لکھنے میں غلطی ہو کو بے گئی ہے۔ یا ممکن ہے کہ سہو کا تب سے یہ غلطی ظہور میں آئی ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ نظر کشمیر میں ایک مشہور و معروف قبر ہے جس کو یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں۔ اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہو گا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان کے مشابہ ہیں۔ مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت تسلی بخش طریق کے ساتھ کھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین - آسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہو کر اپنے وطن سے نکلے تھے اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملالیا۔ مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے۔ پھر اجنبی زبان میں بکثرت مستعمل ہو کر یوز آسف بن گیا۔ لیکن میرے نزدیک یسوع آسف اسم با مسمی ہے اور ایسے نام جو واقعات پر دلالت سم با کریں اکثر عبرانی نیتوں اور دوسرے اسرائیلی راست بازوں میں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ یوسف جو حضرت یعقوب کا بیٹا تھا اس کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی جدائی پر اندوہ اور غم کیا گیا۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اس بات کی طرف اشارہ فرما کر کہا ہے یا اسفا علی یوسف ۔ پس اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پر اسف یعنی اندوہ کیا گیا اس لئے اس کا نام یوسف ہوا ۔ ایسا ہی مریم کا نام بھی ایک واقعہ پر دلالت کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب مریم کالڑ کا عیسی پیدا ہوا تو وہ اپنے اہل و عیال سے دور تھی ۔ اور مریم وطن سے دور ہونے کو کہتے ہیں۔ اس کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرما کر کہتا ہے