مسیحی انفاس — Page 298
یعنی یہودی و عیسائی و اہل اسلام و مجوسی مذہبی طور پر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پس ان سب کا اس مر ہم کو اپنی کتابوں میں درج کرتا بلکہ درج کرنے کے وقت اپنے مذہبی عقیدوں کی بھی پروا نہ رکھنا صاف اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مرہم ایسا واقعہ مشہورہ تھا کہ کوئی فرقہ اور کوئی قوم اس سے منکر نہ ہو سکی ۔ ہاں جب تک وہ وقت نہ آیا جو سیح موعود کے ظہور کا وقت تھا اسوقت تک ان تمام قوموں کے ذہن کو اس طرف التفات نہیں ہوئی کہ نتیجہ جو صد ہا کتابوں میں درج اور مختلف قوموں کے کروڑ ہلا انسانوں میں شہرت یاب ہو چکا ہے اسی کوئی تاریخی فائدہ حاصل کریں۔ پس اس جگہ ہم بجز اسکے کچھ نہیں کر سکتے کہ یہ خدا کا ارادہ تھاکہ وہ چمکتا ہوا حربہ اور وہ حقیقت نما برہان کہ جو صلیبی اعتقاد کا خاتمہ کرے اس کی نسبت ابتدا سے یہی مقدر تھا کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے دنیا میں ظاہر ہو۔ کیونکہ خُدا کے پاک نبی نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ صلیبی مذہب نہ گھٹے گا اور نہ اس کی ترقی میں فتور آئیں گا جب تک کہ مسیح موعود دنیا میں ظاہر نہ ہو۔ اور وہی ہے جو کسر صلیب اُس کے ہاتھ پر ہوگی ۔ مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۶ تا ۶۴ نیز دیکھیں ست بچن۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ تا ۳۰۸ و، راز حقیقت روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۵۸ تا ۱۶۱ - حاشیه * ۲۹۸