مسیحی انفاس — Page 227
۲۲۷ بموجب انہیں کے اعتقاد کے خدا کو قربان ہونا ضروری تھا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک انسانی جسم فدا ہوا اور خدا زندہ رہا۔ اور اگر خدا فدا ہوا تو اس پر موت آئی۔ ملفوظات ۔ جلد ۱۰ صفحه ۱۶۶ اصل میں کفارہ کا عقیدہ ہی ان میں ایسا ہے کہ سارے حرام ان کے واسطے حلال ہو گئے ورنہ کفارہ باطل ہوتا ہے۔ ۲۰۲ سارے حرام ، حلال ہو گئے ہیں ورنہ کفارہ ملفوظات ۔ جلد ۱۰ صفحہ ۲۴۸ باطل ہے عیسائیوں کا خدا مثل ان کی دوسری کلوں اور مشینوں کے خود اپنا ایجاد کر وہ ہے جس کا صحیفہ فطرت میں کچھ پتہ نہیں ملتا۔ اور نہ اس کی طرف سے انا الموجود کی آواز آتی ہے اور نہ اس نے کوئی خدائی کام دکھلائے جو دوسرے نبی دکھلا نہ سکے اور اس کی قربانی کے اثر سے ایک مرغ کی قربانی کا اثر زیادہ محسوس ہوتا ہے جس کے گوشت کی یخنی سے فی الفور ایک کمزور ناتوان قوت پکڑ سکتا ہے۔ پس افسوس ہے ایسی قربانی پر جو ایک مرغ کی قربانی سے تاثیر میں کم تر ہے۔ حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲ - حاشیه اس قربانی کا اثر ۲۰۳ فمثل قوم اتكأوا على الكفارة من كمال الجهل والغراوة۔۔ كمثل حمقي الذين كانوا من قوم متنصرين، طحطح بهم قلة المال وكثرة العيال، حتى كان الفقر حصادهم، والترب مهادهم، وطعامهم بعض الأفاني، وسحناءهم كالشيخ الفاني، وكانوا من شدة بؤسهم مضطرين۔ فقيض القدر ليصبهم ووصبهم أن كفاره پر اعتقاد رکھنے جاءهم شيخ شخت الخلقة دقيق الشركة حقير السحنة ، وكان توجد فيه آثار پس ان لوگوں کی مثال جو کفارہ پر اپنے جہل اور نادانی کی وجہ سے تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان لوگوں کی مانند ہے جو ایک گروہ بیوقوف عیسائیوں کا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ وہ لوگ قلت مال اور کثرت عیال کی وجہ سے ایسے پریشان خاطر ہوئے کہ محتاجگی نے جس طرح کہ گھاس کاٹا جاتا ہے ان کو کاٹ دیا اور زمین ان کا بچھونا ہو گیا اور کھانا ان کا گھاس پات ہو گیا اور ان کی شکل مارے فاقوں کے بڑھوں کی سی ہو گئی اور اپنے فقر فاقہ سے وہ سخت محتاج ہوئے پس بری تقدیر نے ان کے ساتھ یہ اتفاق پیش کیا کہ ایک دبلا سا بڑھا والوں کی مثال