مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 632

مسیحی انفاس — Page 217

اس دنیا میں ہم دیکھتے کہ وہ صرف صحیح کے خون پر بھروسہ رکھیں اور اسی سے کامیاب ہو دیں اور کوئی محنت نہ کریں اور مسلمانوں کے بچے محنتیں کر کر کے اور ٹکریں مار مار کر پاس ہوں ۔ اصل بات پیچھے یہ ہے۔ لَيْسَ لِلأَنْسَانِ الأَمَا سَعَى ہیں کہ ایک انسان جب اپنے نفس کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے فسق و فجور وغیرہ معلوم ہوتے ہیں۔ آخر وہ یقین کی حالت پر پہنچ کر ان کو صیقل کر سکتا ہے ۔ لیکن جب خون مسیح پر مدار ہے تو مجاہدات کی کیا ضرورت ہے۔ ان کی جھوٹی تعلیم نیچی ترقیات سے روک رہی ہے۔ کچی تعلیم والا دعائیں کرتا ہے، کوششیں کرتا ہے، آخر دور تا دوڑتا اور ہاتھ پاوں مارتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ جب یہ بات ان کو سمجھ آئے گی کہ یہ سب باتیں خون صحیح پر بھروسہ ) قصہ کہانی ہیں اور ان سے اب کوئی آثار اور نتائج مرتب نہیں ہوتے۔ اور ادھر سچی تعلیم کی تخم تخم ریزی ریزی کے کے ساتھ ساتھ بر برکات کا ہوں گی تو یہ لوگ لوگ خو خود سمجھ لیں گے۔ انسان کھیتی کرتا ہے۔ اس میں بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر ایک ملازم ہے تو اسے بھی محنت کا خیال ہے غرضیکہ ہر ایک اپنے اپنے اپنے اپنے من مقام پر کوشش میں لگا ہے اور سب کا ثمرہ کوشش پر ہی ہے۔ سارا قرآن کوشش کے مضمون مون سے ہے۔ بھرا پڑا لیس للانسان الأما سعی ان لوگوں کو جو ولایت میں خون صحیح پر ایمان لا کر بیٹھے ہیں کوئی پوچھے کہ کیا حاصل ہوا۔ مردوں یا عورتوں نے خون پر ایمان لاکر کیا ترقی حاصل کی۔ یہ باتیں ہیں جو بار بار ان کے کانوں تک پہنچانی چاہئیں۔ ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحه ۲۸۹، ۲۹۰ ۲۱۷ ترک معاصی اور شئے ہے اور نیکیوں کا حصول اور قرب الہی دوسری شئے ہے۔ عیسائیوں نے بھی اس معاملہ میں بڑا د ہو کا کھایا ہے اور اسی واسطے انہوں نے کفارہ کا مسئلہ ایجاد کیا ہے کہ یسوع کے پھانسی ملنے سے ۱۸۸ گناہ سے بچنے کی قرآنی گناہ دور ہو گئے۔ اول تو یہ بات تعالیم ہی غلط ہے کہ ایک شخص کا پھانسی مناسب کے گناہ دور کر دے ۔ دوم اگر گناہ دور بھی ہو جادیں تو صرف گناہ کا موجود ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔ بہت کیڑے مکوڑے اور بھیڑ بکریاں دنیا میں موجود ہیں جن کے ذمہ کوئی گناہ نہیں لیکن وہ خدا تعالی کے مقربوں میں سے نہیں شمار ہو سکتے اور ایسا ہی کثرت سے اس قسم کے ابلہ اور سادہ لوح لوگ موجود