مسیحی انفاس — Page 211
۲۱۱ حاصل کرنے کے لئے قدیم سے قانون قدرت یہی ہے جو ہم ان کھڑکیوں کو کھول دیں جو اس آفتاب حقیقی کے سامنے ہیں۔ تب وہ کرنیں اور شعائیں جو بند کرنے سے گم ہو گئی تھیں ایک دفعہ پھر پیدا ہو جائیں گی۔ دیکھو خدا کا جسمانی قانون قدرت بھی یہی گواہی دے رہا ہے۔ اور کسی ظلمت کو ہم دور نہیں کر سکتے جب تک ایسی کھڑکیاں نہ کھول دیں جن سے سیدھی شعاعیں ہمارے گھر میں پڑ سکتی ہیں۔ سواس میں کچھ شک نہیں کہ عقل سلیم کے نزدیک یہی صحیح ہے جو ان کھڑکیوں کو کھولا جائے۔ تب ہم نہ صرف نور کو پائیں گے بلکہ اس مبدء الانوار کو بھی دیکھ لیں گے۔ کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۸، ۷۹ ۱۷۸ اے خدا کے طالب بندو ! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں۔ یقین ہی ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔ یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے۔ یقین ہی ہے یقین سے گناہ ترک جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے۔ کیا تم گناہ کو بغیریقین کو چھوڑ سکتے ہو۔ کیا تم جذبات ماہ تک میں نہیں تکرار ہوتے ہیں ۔ کفارہ نفس سے بغیر یقینی تجلی سے رک سکتے ہو۔ کیا تم بغیر یقین کے کوئی تسلی پاسکتے ہو۔ کیا تم سکتا۔ بغیر یقین کے کوئی بچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو ۔ کیا تم بغیر یقین کے کوئی بچی خوشحالی حاصل لیات ۔ کر سکتے ہو۔ کیا آسمان کے نیچے کوئی ایسا کفارہ اور ایسا فدیہ ہے جو تم سے گناہ ترک کرا سکے ۔ کیا مریم کا بیٹا عیسی ایسا ہے کہ اس کا مصنوعی خون گناہ سے چھڑائے گا۔ اے عیسائیو! ایسا جھوٹ مت بولو۔ جس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یسوع خود اپنی نجات کے لئے یقین کا محتاج تھا اور اس نے یقین کیا اور نجات پائی ۔ افسوس ہے ان عیسائیوں پر جو یہ کہہ کر مخلوق کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم نے مسیح کے خون سے گناہ سے نجات پائی ہے۔ حالانکہ وہ سر سے پیر تک گناہ میں غرق ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کا کون خدا ہے۔ بلکہ زندگی تو غفلت آمیز ہے۔ شراب کی مستی ان کے دماغ میں ہے۔ مگر وہ پاک مستی جو آسمان سے اترتی ہے اس سے وہ بے خبر ہیں۔ اور جو زندگی خدا کے ساتھ ہوتی ہے اور جو پاک زندگی کے نتائج ہوتے ہیں وہ اس سے بے نصیب ہیں۔ پیس تم یاد رکھو کہ بغیر یقین کے تم تاریک زندگی سے باہر نہیں آسکتے اور نہ روح القدس تمہیں مل سکتا ہے۔ مبارک وہ جو یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہی خدا کو دیکھیں گے۔ مبارک وہ جو شبہات اور شکوک سے نجات پاگئے ہیں۔ کیونکہ وہی گناہ سے