مسیحی انفاس — Page 208
ہو اور باہر سے چمکتا ہوا نظر آئے۔ اور اگر غور کرنے والی طبیعتیں ہوں تو اس صلیبی نسخہ کا غلط ہونا خود صلیب پرستوں کے کے حالات سے واضح ہو سکتا ہے کہ وہ کہاں تک دنیا پرستی اور ہوا و ہوس کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو گئے ہیں۔ جو شخص یورپ کے ممالک کی سیر کرے وہ خود دیکھ لے گا کہ دنیا کی عیاشی اور بے قیدی اور شراب خوری اور نفس پرستی اور دوسرے فسق و فجور کس درجہ تک ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو بڑے حامی دین کہلاتے ہیں اور جو اس ملک کے جاہل لوگوں کی طرح نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں۔ سب سے زیادہ خون صحیح پر زور دینے والے پادری صاحبان ہیں۔ سواکثران کے شراب خوری میں جو ام الخبائث ہے مبتلا ہیں بلکہ بعض کے حالات جو اخباروں میں شائع اب ظاہر ہے کہ ہوتے رہتے ہیں ایسے نا قابل شرم ہیں جو نا گفتہ بہ ۔ جب کہ یہ لوگ کہ جو بڑے مقدس پادری کہلاتے ہیں اور خون مسیح سے فیض اٹھانے والے اول درجہ پر ہیں ان کا یہ حال ہے تو دوسرے بیچارے اس نسخہ سے کیا فائدہ اٹھائیں گے۔ سو یاد رہے کہ یہ طریق حقیقی پاکیزگی حاصل کرنے کا نہیں ہے۔ اور وقت آتا جاتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ اس غلط طریق پر خود متنبہ ہو جائیں گے۔ طریق وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے ۔ ہر ایک شخص جو شخص ں جو خدائے تعالیٰ کی طرف آیا ہے اس دروازے سے داخل ہوا ہے۔ ہاں یہ دروازہ بہت تنگ ہے اور اس کے اندر داخل ہونے والے بہت تھوڑے ہیں کیونکہ اس دروازہ کی دہلیز موت ہے اور خدا کو دیکھ کر اس کی راہ میں اپنی بسیاری قوت اور سارے وجود سے کھڑے ہو جانا اس کی چوکھٹ ہے۔ پس بہت ہی تھوڑے ہیں جو اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ملک میں عیسائی صاحبوں کو تو حضرت مسیح کے خون کے خیال نے اس دروازہ سے دور ڈال اور تو بہ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف ایک موت کی حالت بنا کر پر صدق دل سے رجوع کرنا اور موت کی سی حالت بنا کر اپنی قربانی آپ ادا کرنا ان کے نزدیک ایک لغو خیال ہے۔ پس یہ دونوں فریق اس حقیقی راہ سے محروم ہیں۔ دیا ۔۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم - روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۴ تا ۳۷ نیز دیکھیں۔ ملفوظات ۔ جلد ۱۰ صفحہ ۳۱۸ - ملفوظات ۔ جلد ۶ صفحه ۸۲ ۲۰۸