مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 632

مسیحی انفاس — Page 201

۲۰۱ کے خیالات نے ہزار ہا گر دو غبار ڈال دیتے ہیں۔ اس پاک جوہر کی چمک ظاہر کرنے کے لئے اس کے فوق العادت نشان ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ اور نوع انسان کی نجات اسی چمک پر موقوف ہے نہ کسی اور بناوٹی منصوبہ پر۔ جس صلیب پر عیسائیوں کا بھروسہ ہے وہ گناہ سے تو نہیں چھڑا سکی لیکن خدا کی راہ میں نیک کاموں کے بجالانے سے چھڑا دیا اور سست کر دیا ہے ۔ اور اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہو گا کہ ایک عاجز انسان کو خدا کی جگہ دی گئی ہے اور دنیا کے لئے سب کچھ کیا جاتا ہے لیکن خدا کی راہ میں ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور ان کے نزدیک جو کچھ ہے یہی کفارہ ہے اور اس سے آگے خدا کی راہ کی تلاش کی ضرورت نہیں اور وہ اپنے خیال میں ایسی منزل پر پہنچ گئے ہیں جو آخری منزل ہے پس کوئی ڈاکو کسی کو ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جیسا کہ اس کفارہ نے ان کو پہنچایا ہے۔ اس پوشیدہ طاقت سے وہ لوگ بالکل بے خبر ہیں جس کے قبضہ قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ اگر چاہے تو ایک دم میں ہزار مسیح ابن مریم بلکہ اس سے بہتر پیدا کر دے چنانچہ اس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کر کے ایساہی کی مگر یہ اندھی دنیا اس کو شناخت نہ کر سکی وہ ایک نور تھا جو دنیا میں آیا اور تمام نوروں پر غالب آگیا اس کے نور نے ہزاروں دلوں کو منور کیا اور اس کی برکت کا یہ راز ہے کہ روحانی بد د اسلام سے منقطع نہیں ہوئی بلکہ قدم بقدم اسلام کے ساتھ چلی آتی ہے ۔ ہم ایسی تازہ بتازہ برکتیں اس نبی کے دائمی فیض سے پاتے ہیں کہ گویا اس زمانہ میں بھی وہ نبی ہم میں موجود ہے اور اس وقت بھی اس کے فیوض ہماری ایسی ہی راہنمائی کرتے ہیں کہ جیسا اس پہلے زمانہ میں کرتے تھے ۔ اس کے ذریعہ سے ہمیں وہ پانی ملا ہے جس کی ضرورت ہر ایک پاک فطرت محسوس کر رہی ہے۔ وہ پانی بڑی سرعت سے ؟ رعت سے ہمارے ایمانی درخت کو نشوو نما دے رہا ہے اور ان مشکلات سے ہم نے رہائی پالی ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں۔ اور اگر کسی کو ہم میں سے ابتدائی مرحلہ میں ۔۔۔ مشکلات معلوم بھی ہوں مگر وہ ایسی نہیں ہیں جو آگے قدم بڑہانے سے مغلوب اور رفع نہ ہو سکیں۔ اسلام میں آگے قدم بڑہانے کا وسیع میدان ہے نہ عیسائیوں کی طرح آخری دوڑ صرف مسیح کے کفارہ تک ہے و بس۔ ایسے تنگ خیالات ہر گز عززت اور قدر کے لائق نہیں کہ انسانی قوالے کو یا تو سراسر بیکار ٹھہراتے ہیں اور یا ان کو معطل رہنے کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر نتیجہ کچھ نہیں۔ چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۱۲، ۳۱۳