مسیحی انفاس — Page 192
۱۹۲ عیسائی مذہب میں اور کیا اس کے ذریعہ ہے؟ طریق نجات۔ نجات کا طریق کیا ہے طریق پر چلنے والے نجات پا جاتے ہیں تو ضرور اس نجات یابی کی علامات بھی اس کتاب میں لکھی ہوں گی۔ اور سچے ایماندار جو نجات پاکر اس دنیا کی ظلمت سے مخلصی مخلصی پا جاتے نجات حاصل کی جا سکتی ہیں ان کی نشانیاں ضرور انجیل میں کچھ لکھی ہوں گی۔ کیا وہ نشانیاں آپ صاحبوں میں جو بڑے بڑے مقدس اور اس گروہ کے سردار اور پیشوا اور اول درجہ پر ہیں پائی جاتی ہیں اگر پائی جاتی ہیں تو ان کا ثبوت عنایت ہو اور اگر نہیں پائی جاتیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس چیز کی صحت اور درستی کی نشانی نہ پائی جائے تو کیا وہ چیز اپنے اصل پر محفوظ اور قائم سمجھی جائے گی۔ مثلاً اگر تربد یا سقمونیا یا سنا میں خاصہ اسہال کا نہ پایا جائے کہ وہ دست آور ثابت نہ ہو تو کیا اس تربد کوتر بد موصوف یا سقمونیا خالص کہہ سکتے ہیں اور ماسوا اس کے جو آپ صاحبوں نے طریق نجات شمار کیا ہے جس وقت ہم اس طریق کو دوسرے طریق کے ساتھ جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے مقابل کر کے دیکھتے ہیں تو قرآن مجید کالایش کرده صاف طور پر آپ کے طریق کا تصنع اور غیر طبعی ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اور یہ بات بہ پایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ آپ کے طریق میں کوئی صحیح راہ نجات کا قائم نہیں کیا گیا مثلا دیکھئے کہ اللہ جل شانہ، قرآن کریم میں جو طریق پیش کرتا ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان جب اپنے تمام وجود کو اور اپنی تمام زندگی کو خدا تعالیٰ کے راہ میں وقف کر دیتا ہے تو اس صورت میں ایک سچی اور پاک قربانی اپنے نفس کے قربان کرنے کے سے وہ ادا کر چکتا ہے۔ اور اس لائق ہو کا جاتا ہے کہ موت کے عوض میں حیات پاوے کیونکہ یہ آپ کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ کی کتابوں میں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتا ہے وہ حیات کا وارث ہو جاتا ہے۔ پھر جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی تمام زندگی کو وقف کر دیا اور اپنے تمام جوارح اور اعضاء کو اس کی راہ کر میں لگادیا تو کیا اب تک اس نے کوئی کچی قربانی ادا نہیں کی۔ کیا جان دینے کے بعد کوئی اور بھی چیز ہے جو اس نے باقی رکھ چھوڑی ہے۔ لیکن آپ کے مذہب کا عدل تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ زید گناہ کرے اور بکر کو اس کے عوض میں سولی دیا جائے۔ آپ اگر غور اور توجہ سے دیکھیں تو بیشک ایسا طریق قابل شرم آپ پر ثابت ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے جب سے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کی مغفرت کے لئے بھی قانون قدرت رکھا ہے جو ابھی میں نے بیان کیا ہے اور در حقیقت اس قانون قدرت میں جو طبعی اور ابتداء سے چلا آتا ہے ایسی خوبی اور عمدگی ہے جو ایک ہی انسان کی سرشت میں خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں رکھ دی ہیں جیسے اس کی سرشت میں گناہ رکھا ہے ویسا ہی اس گناہ کا علاج بھی رکھا۔ اور وہ یہ کہ