مسیحی انفاس — Page 185
۱۸۵ والقرآن مملوء من نظائره، ولكن كفاك هذا القدر إن كنت من العاقلين۔ كرامات الصادقين روحاني خزائن مجلد 7 ص ١١٤، ١١٥)۔ ۱۵۴ ہم نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیده که خدا تعالیٰ کا عدل بغیر کفاره کے کیونکر پورا ہو بالکل مہمل ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یسوع باعتبار اپنی انسانیت کے بے گناہ تھا۔ مگر پھر بھی ان کے خدا نے یسوع پر ناحق تمام جہان کی لعنت ڈال کر خدا کو عدل کی کچھ پرواہ اپنے عدل کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خدا کو عدل کی کچھ نہیں۔ بھی پرواہ نہیں یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اس کو بہ افتح طریق اختیار کر لیا گیا۔ واویلا تویہ تھا کہ کسی طرح عدل میں فرق نہ آوے اور رحم بھی وقوع میں آجائے ۔ ہے۔ مگر ایک بے گناہ کے گلے پر ناحق چھری پھیر کر نہ عدل قائم رہ سکا اور نہ رحم ۔ لیکن یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالی کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزادی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ در گزر کی جائے۔ یہ ایک یہ ایسا دھوکہ ہے کہ جس میں قلت تدبر سے کو نہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔ وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔ وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے عدل بھی تو ایک رحم لئے ہیں مثلاً اگر خدا تعالیٰ ایک خوبی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے۔ تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس لئے چاہتا ہے که تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کرنا بود نہ ہو جائیں۔ سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خدا تعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے۔ اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں در حقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے۔ انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ یسوع کے کفارہ سے چوری کرنا بے گانہ مال دبالینا ڈاکہ مار نا خون کرنا جھوٹی گواہی دینا سب جائز اور حلال ہو جاتے ہیں اور سزائیں معاف ہو جاتی ہیں بلکہ ہر ایک جرم کے لئے سزا ہے اسی لئے یسوع نے کہا کہ ”اگر تیری آنکھ درمیان یہی فرق ہے۔ قرآن ایسے نظائر سے بھرا ہوا ہے مگر تجھے استاہی کافی ہے اگر تو عقل مندوں میں سے ہے۔