مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 632

مسیحی انفاس — Page 181

۱۸۱ پھر آپ دعوے کے طور پر فرماتے ہیں کہ آسمان کے نیچے دوسرا نام نہیں جس سے نجات ہو اور نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح گناہ سے پاک تھا اور دوسرے نبی گناہ سے پاک اور نہیں مگر تعجب کہ حضرت مسیح نے کسی مقام میں نہیں فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور میں ہر ایک قصور اور ہر ایک خطا سے پاک ہوں اور یہ کہنا حضرت مسیح کاکون تم میں سے مجھ پر 35 ۱۵۲ الزام لگا سکتا ہے یہ الگ بات ہے جسکا یہ مطلب ہے کہ تمہارے مقابل پر اور تمہارے الزام سے میں مجرم اور مفتری نہیں ٹھر سکتا لیکن خدا تعالی کے حضور میں حضرت مسیح میجر تصور اور خطا سے صاف اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرتے ہیں جیسا کہ متی باب ۱۹ سے ظاہر ہے کہ انہوں پاک نہیں تھے ۔ نے اپنے نیک ہونے سے انکار کیا۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن اور انجیل دونوں کلام خدا ہو کر پھر دو مختلف طریقے نجات کے کیوں بیان کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جو قرآن کے مخالف انجیل کے حوالہ سے طریقہ بیان کیا جاتا ہے وہ اہے وہ صرف آپ کا بے بنیاد خیال ہے ابتک آپ نے ثابت کر کے نہیں دکھایا کہ حضرت مسیح کا قول ہے انجیل میں تو نہ با صراحت و نہ بالفاظ کہیں تثلیث کا لفظ موجود ہے اور نہ رحم بلا مبادلہ کا قرآن کریم کی تصدیق کے لئے وہ حوالجات کافی ہیں جو ابھی ہمنے پیش کئے ہیں جب کہ قرآن اور عہد عتیق اور جدید کے بہت سے اقوال بالاتفاق آپ کے کفارہ کے مخالف ٹھہرے ہیں تو کم سے کم آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ اس عقیدہ میں آپ سے آپ سے غلط فہمی ہو گئی ہے۔ کیونکہ ایک عبارت کے معنے کرنے میں کبھی انسان دھو کا بھی کھا جاتا ہے جیسا آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے بھائیوں رومن کیتھلک اور یونی شیرین نے ا نے انجیل کے سمجھنے میں دھو کا کھایا ہے اور وہ دونوں فریق آپ کو دھو کہ پر سمجھتے ہیں۔ پھر جب گھر میں ہی پھوٹ ہے تو پھر آپ کا اتفاقی مسئلہ کو چھوڑ دینا اور اختلافی خبر کو پکڑ لینا کب جائز ہے۔ جنگ مقدس بروحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۲۴ فإنهم قائلون بلسغ الذنب من آدم إلى انقطاع الدنيا، ويقولون إن كل عبد مذنب ، سواء عليه بلغه كتاب من الله تعالى، أو أعطى له عقل سليم، أو كان من ترجمہ یہ چنانچہ وہ آدم سے لے کر دنیا کے خاتمہ تک گناہ کے نسل در نسل پائے جانے کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر شخص گنہگار ہے خواہ اسے خدا کی کتاب کا پیغام پہنچا ہو اور عقل سلیم دی گئی ہو یا معذوروں میں ۱۵۳ نہ عدل باقی رہا نہ رحم