مسیحی انفاس — Page 173
۱۷۳ معظمه سے لعنت کا مفہوم کرنے کی وور سے نکلا ہے۔ اگر اس کا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اس کی کس قدر ملکہ اہانت ہے ہے ؟ ؟ افسوس اس توہین کو یسوع کی نسبت اس اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے وکٹوریہ) سے میں اختیار کر رکھا تا ہے۔ ہے۔ اے ملکہ معظمہ ا یسوع میں سے تو تو یہ نیکی کر خدا خا تجھ سے یہ بہت نیکی کرے گا میں دعامانگتا ہوں کہ اس کاروائی کے لئے خدا تعالی آپ ہماری محسنہ ملکہ معظمه درخواست کے دل میں القا کرے۔ پیلاطوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا نا انصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آکر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا اور یسوع جو بے گناہ تھا اس کو نہ چھوڑا لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عا رہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر ۔ اس وقت ہم اپنی نہایت پاک نیست سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کے لئے چائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اہر جرات کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزت کو اس داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کر کے دکھلا۔ بے شک شہنشاہوں کے حضور میں ان کی استمزاج سے پہلے بات کرنا اپنی جان سے بازی ہوتی ہے لیکن اس وقت ہم یسوع مسیح کی عزت کے لئے ہر ایک خطرہ کو قبول کرتے ہیں۔ اور محض اس کی طرف سے رسالت لیکر بحیثیت ایک تے ۔ اور سفیر کے اپنے عادل باشاہ کے حضور میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ اے ھماری ملکہ معظمہ ! تیرے پر بے شمار برکتیں نازل ہوں خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو تیرے دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت کو قبول کر تمام مذہبی مقدمات میں یہی ایک قانون قدیم سے چلا آیا ہے کہ جب کسی بات میں دو فریق متنازعہ کرتے ہیں تو اول منقولات کے ذریعہ سے اپنے متنازعہ کو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب منقولات سے وہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو معقولات کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور عقلی دلائل سے تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب کوئی مقدمہ عقلی دلائل سے بھی طے ہونے میں نہیں آتا تو آسمانی فیصلہ کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اور آسمانی نشانوں کو اپنا حکم ٹھراتے ہیں لیکن اے مخدومہ ملکہ معظمہ ! یسوع مسیح کی بریت کے بارے میں یہ تینوں ذریعے شہادت دیتے ہیں۔ منقول کے ذیعہ سے اس طرح کہ تمام نوشتوں سے پایا جاتا ہے کہ یسوع دل کا غریب اور حلیم اور خدا سے پیار کرنے والا اور ہر دم خدا کے ساتھ تھا۔ پھر کیونکر تجویز کیا جائے کہ کسی وقت نعوذ باللہ اس کا دل خدا سے برگشتہ اور ۔ اور خدا کا منکر اور خدا کا دشمن ہو گا گیا تھا۔ رہ