مسیحی انفاس — Page 170
۱۷۰ ۱۴۲ رو ہوتا اور یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ ہر ایک مومن جب مرتا ہے تو اس کی روح کو فرشتے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ لیکن کافر کی روح آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی۔ اور کافر ملعون ہوتا ہے اس کی روح نیچے کو جاتی ہے اور وہ لوگ بباعث صلیب پانے حضرت عیسٰی کے اور نیز بوجہ بعض اختلافات کے اپنے فتووں میں حضرت عیسی علیہ السلام کو کافر ٹھرا چکے تھے۔ کیونکہ بزعم ان کے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام بذریعہ صلیب قتل ہو گئے تھے۔ اور توریت میں یہ صاف حکم تھا کہ جو شخص بذریعہ صلیب مارا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ پس ان وجوہ سے انہوں نے حضرت عیسی کو کافر ٹھرایا تھا اور ان کے رفع روحانی سے منکر ہو گئے تھے۔ پس یہودیوں کے نزدیک یہ منصوبہ ہنسی کے قابل تھا کہ گویا حضرت مسیح مع جسم آسمان پر چلے گئے۔ اور در حقیقت یہ افتراء ان لوگوں نے کیا تھا جو توریت کے علم سے نا واقف تھے اور خود فی نفسہ یہ خیال نہایت درجہ لغو تھا جس سے خدائے تعالیٰ پر ناوا اعتراض ہوتا تھا کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح علیہ السلام یہودیوں کے تمام فرقوں تک جو مختلف فرقوں میں متفرق ہو چکے تھے اپنی دعوت کو ہنوز پہنچا نہیں سکے تھے اور ان کے ہاتھ سے ایک فرقہ کو بھی ابھی ہدایت نہیں ہوئی تھی ایسی صورت میں تبلیغ کے کام کو نا تمام چھوڑ کر حضرت عیسی کا آسان پر چڑھ جانا سراسر خلاف مصلحت اور اپنے فرض منصبی سے پہلو تہی کرنا تھا۔ اور خود ظاہر ہے کہ خدائے تعالی کا محض بے ہودہ طور پر ان کو آسمان پر بٹھا دینا ایک بے سود اور لغو پری نہیں ہو سکتا۔ لغو کام ہے جو ہر گز خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۷ - ۵۸ قرآن شریف اس لئے آیا ہے کہ تا پہلے اختلافات کا فیصلہ کرے۔ اور یہود اور قرآن کریم نے حضرت نصاری نے جو حضرت عیسیٰ کے رفع الی السماء میں اختلاف کیا تھا جس کا قرآن نے فیصلہ مسیح کارفع روحانی ثابت کیا اور لعنت کے مفہوم کرنا تھا وہ رفع جسمانی نہیں تھا ۔ بلکہ تمام جھگڑا اور متنازع روحانی رفع کے بارے میں تھا۔ سے بچایا۔ یہود کہتے تھے کہ نعوذ باللہ عیسیٰ لعنتی ہے۔ یعنی خدا کی درگاہ سے رد کیا گیا اور خدا سے دور کیا گیا اور رحمت الہی سے بے نصیب کیا گیا جس کار فع الی اللہ ہر گز نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ مصلوب ہوا۔ اور مصلوب توریت کے حکم کے رو سے رفع الی اللہ سے بے نصیب ہوتا