مسیحی انفاس — Page 165
ا وہ سرے سے ایسی تعلیم سے انکار کر دیتے جو ان کی کتابوں میں موجود تھی اور خدا کے پاک نبی اس کو تازہ کرتے آئے تھے۔ یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اور ان کے فاضل اور عالم بھی موجود ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو ان سے بالمواجہ دریافت کرتے۔ کیا ایک عقلمند جو در حقیقت سچائی کی تلاش میں ہے وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ یہودیوں کی بھی اس میں گواہی لے۔ کیا یہودی وہ پہلے گواہ نہیں ہیں جو صدہا برسوں سے توریت کی تعلیم کو حفظ کرتے چلے آئے ہیں ؟ ایک عاجز انسان کو خدا بنانانہ اس پر پہلی تعلیموں کی گواہی نہ ان تعلیموں کے وارثوں کی گواہی نہ پچھلی تعلیم کی گواہی نہ عقل کی گواہی اور اس شخص کو خدا کا بھی کہنا اور پھر شیطان کا بھی۔ کیا ان گندی اور نا معقول باتوں کو ماننا پاک فطرت لوگوں کا کام ہے ؟!! سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۱ تا ۳۳۶ ۱۶۵ پھر جب اس عقیدہ کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ باوجود یکہ توریت کی متوارث اور پھر قدیم کی کی گئی اور اک دوسرے پر گیا اور ایک رات - تعلیم کی مخالفت کی گئی اور ایک کا گناہ دوسرے پر ڈالا گیا اور ایک راست باز کے دل کو ہوا ؟ ۱۳۷ لعنتی اور خدا سے دور اور مہجور اور شیطان کا ہم خیال ٹھہرایا گیا۔ پھر ان سب خرابیوں کے لعنتی قربانی کو قبول ساتھ اس لعنتی قربانی کو قبول کرنے والوں کے لئے فائدہ کیا ہوا ۔ کیا وہ گناہ سے باز آگئے کرنے والوں کو فائدہ یا ان کے گناہ بخشے گئے تو اور بھی اس عقیدہ کی لغویت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ گناہ سے باز آنا اور سچی پاکیزگی حاصل کرنا تو ببداہت خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ موجب عقیدہ عیسائیوں کے حضرت داؤد علیہ السّلام بھی کفارہ یسوع پر ایمان لائے تھے۔ لیکن بقول ان کے ایمان لانے کے بعد نعوذ باللہ حضرت داؤد نے ایک بے گناہ کو قتل کیا اور اس کی جو رو سے زیاہ کیا اور نفسانی کاموں میں خلافت کے خزانہ کا مال خرچ کیا اور سوتک جورو کی اور اخیر عمر تک اپنے گناہوں کو تازہ کرتے رہے اور ہر روز کمال گستاخی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کیا۔ پس اگر یسوع کی لعنتی قربانی گناہ سے روک سکتی تو بقول ان کے داؤد اس قدر گناہ میں نہ ڈوبتا۔ ایسا ہی یسوع کے حواریوں سے بھی ایمان لانے کے بعد قابل شرم گناہ سرزد ہوئے۔ یہودا اسکریوطی نے تیس روپیہ پر یسوع کو بیچا اور پطرس یہودا بھیجے روپیہ پر ) نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ یسوع پر لعنت بھیجی اور باقی سب بھاگ گئے۔ اور ظاہر