مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 632

مسیحی انفاس — Page 155

۱۵۵ اس کا خون صاف نہ کر سکے اور کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا اس نے بدلہ نہ دیا ہو اور کوئی سزاء گناہ ایسی نہیں جو اس ۔ ں نہیں جو اس نے نہ اٹھائی ہو " اور ظاہر ہے کہ گناہگاروں کی خاص سزا جہنم ہے جس کا اٹھانا پوری سزا اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۲ سطر ۱۴ - ۱۵ میں ا میں سزا کی تشریح یہ لکھی ہے " دیندار لوگ مرتے وقت ہی آرام کی جگہ میں داخل ہوتے ہیں اور بے دین اسی وقت دوزخ میں گرتے ہیں۔ " اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے سب گناہ ۔ نے سب گناہ اپنے پر لیکر ضرور جہنم پر لیکر ضرور جہنم کی سزا اٹھائی۔ اور رسالہ محمودیہ وو وہ آپ १९ صلب و البالغین کے صفحہ ۲۹۱ سطر او ۲ میں یسوع کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ یہ لکھا ہے ” صا مات وقير ونزل الى الجعيم" یعنی یسوع مصلوب ہوا اور مر گیا اور قبر میں داخل ہوا اور جہنم میں اترا۔ اب ان تمام عبارتوں سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح جہنم میں گیا اور اس نے ساری سزائیں اٹھائیں۔ عیسائی اس بات سے بھی قائل ہیں کہ صلیب کی سزا تو صرف چند گھنٹے تھی لعنت ۔ لعنت موت کے بعد تین دن تک رہی۔ اب ظاہر ہے کہ لعنت کے ایام میں کسی قسم کا عذاب یسوع کے شامل حال ہو گا اور وہ عذاب بجز دوزخ کے اور کوئی نہیں اور نیز جبکہ یسوع کا فرض تھا کہ وہ آپ آر سزا اٹھا کر خدا تعالیٰ کا عدل پورا کرے تو پھر اگر صرف دنیا کا چند گھنٹوں کا دکھ اس نے دیکھا اور جہنم میں نہیں گیا تو اس صورت میں خدا کا عدل کیونکر پورا ہو گا۔ حالانکہ انجیل متی کی تفسیر میں پادری عماد الدین لکھتے ہیں کہ ” خدا مسیح کے دل کے سامنے سے ہٹ گیا۔ تاکہ اپنی عدالت خوب پوری کرے " یعنی باعث لعنت یسوع کا دل تاریک ہو گیا اور تفسیر کتاب اعمال ملقب به تذکرة الابرار مطبوعه ۱۸۷۹ امریکن مشن پریس لو دھیانہ میں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے مسیح خداوند کا شکر ہو کہ اس نے شریعت کی ساری لعنت کو اپنی صلیبی موت میں اپنے اوپر اٹھا کے ہمیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں شریعت کی لعنت سے آزاد کر دیا کہ وہ آپ ہمار نے بدلے لعنتی ہوا۔ ہم سب حقیقت میں لعنتی تھے اور یہ لعنت ابد تک ہمارے اور ابد تک ہمارے اوپر تھی۔ کبھی ہم اس کے نیچے سے نکل نہ سکتے کیونکہ لاچار اور کمزور تھے پر وہ ہمارے لئے لعنتی ہوا کہ ہماری حال کے بعض عیسائی کتابوں میں بجائے جہنم ہادس لکھا ہے جو ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہادیہ ہے جس کو عبرانی میں ہاوت کہتے ہیں در حقیقت یہ دونوں لفظ ہادس اور ہاوث عربی کے لفظ ہاویہ سے لئے گئے ہیں ۔ منہ