مسیحی انفاس — Page 140
- نخواہ ان کو پر میشر ثابت کرنا چاہا ہے مگر وہ قصے بھی عیسائیوں کے بیہودہ قصوں سے کچھ کم نہیں ہیں ۔ اور اگر فرض بھی کریں کہ کچھ ان میں سے صحیح بھی ہے۔ تب بھی عاجز انسان جو ضعف اور ناتوانی کا خمیر رکھتا ہے۔ پر میشر نہیں ہو سکتا اور احیاء حقیقی تو خود باطل اور الہی کتابوں کے مخالف ہاں اعجازی احیاء جس میں دنیا کی طرف رجوع کرنا اور دنیا میں پھر آباد ہونا نہیں ہوتا۔ ممکن تو ہے۔ مگر خدائی کی دلیل نہیں کیونکہ اس کے مدعی عام ہیں۔ مردوں سے باتیں کر ا دینے والے بہت گذرے ہیں مگر یہ طریق کشف قبور کے قسم میں سے ہے۔ ہاں ہندووں کو عیسائیوں پر ایک فضیلت بیشک ہے ۔ اس کے بلا شبہ ہم قائل ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بندوں کو خدا بنانے میں عیسائیوں کے پیشرو ہیں۔ انہیں کے ایجاد کی عیسائیوں نے بھی پیروی کی۔ ہم کسی طرح اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ جو ایجادی ۔ کچھ عیسائیوں نے عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے باتیں بنائی ہیں یہ باتیں انہوں نے اپنے دماغ سے ن سے نہیں نکالیں۔ بلکہ شاستروں اور گرنتھوں میں سے چرائی ہیں۔ یہ تمام تو وہ طوفان پہلے ہی سے برہمنوں نے کرشن اور رام چندر کے لئے بنارکھا تھا جو عیسائیوں کے کام آیا۔ پس یہ خیال بدیہی البطلان ہے کہ شاید ہندووں نے عیسائیوں کی کتابوں میں سے چرایا ہے۔ کیونکہ ان کی تحریریں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسی کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔ پس ناچار ماننا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں۔ چنانچہ پوٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ” تثلیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ مگر اصل یہ ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرایا متقابلہ کی طرح تھے۔ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبار کے انبار پہلے ہند سے ویدو د یا کی صورت میں یونان میں گئے۔ پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا چرا کر انجیل پر حاشیے چڑہائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا۔ “ ९९ نور القرآن - حصہ اول - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۰ تا ۳۶۴ - حاشیه ایک اور بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عیسائی لوگ لفظ الو ہیم سے جوالہ کی جمع ہے اور کتاب پیدائش میں موجود ہے یہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔ مگر اس سے اور بھی ان کی نادانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ عبرانی لغت سے ثابت ہے کہ گوالو ہیم کا لفظ بظاہر جمع ہے مگر ہر ایک جگہ واحد کے معنے دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ زبان ۱۴۰ ۱۲۰