مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 632

مسیحی انفاس — Page 137

۱۳۷ جماعت کے لئے حلال کر دیا۔ حالانکہ توریت میں لکھا ہے کہ وہ ابدی حرام ہے اور اس کا چھونا بھی نا جائز ہے۔ غرض اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ناجائیز ہوئیں۔ حضرت مسیح تو توده وہ بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک انسان کہے مگر پولوس نے ان کو خدا بنا دیا۔ جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت مسیح کو کہا کہ اے نیک استاد ! انہوں نے اس کو کہا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ ان کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑہائے جانے کے وقت ان کے منہ سے نکلا کیسا توحید پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا۔ ایلی ایلی لما سبقتانی ۔ یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ۔ کیا جو شخص اس عاجزی سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خدا میرا رب ہے اس کی نسبت کوئی عظمند گمان کر سکتا ہے کہ اس نے در حقیقیت خدائی کا دعوی کیا تھا ؟ اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سے محبت ذاتیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ ان سے ایسے کلمے ان کی نسبت کہلا دیتا ہے کہ نادان لوگ ان کی ان کلموں سے خدائی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میری نسبت مسیح سے بھی زیادہ وہ کلمات فرمائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی پہ سے وہ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ یا قَمَرُ يَا شَمْسُ أَنْتَ مِني وَأَنَا مِنْكَ یعنی اے چاند ! اور اے سورج ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ۔ اب اس فقرہ کہ جو چاہے کسی طرف کھینچ لے مگر اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ اول خدا نے مجھے قمر بنایا لیے عمر کے یہ ہیں کہ کیونکہ میں قمر کی طرح اس حقیقی شمس سے ظاہر ہوا اور پھر آپ قمر بنا کیونکہ میرے ذریعہ سے اس کے جلال کی روشنی ظاہر ہوئی اور ہوگی۔ چشمہ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۲ تا ۳۷۶ ۔ ۱۱۹ ایک شخص رام چندر اور کرشن جی کا پوجا کرنے والا اور ان کو خدا ٹھرانے والا اس بات کاپوجا وال اور سے تو تبھی باز نہیں آئے گا کہ وہ رام چندر اور کرشن کوانسان محض قرار دے بلکہ بار بار ای ے تو بار آئے گا کہ و رام چندر اور کرشن کوانسان حق تثلیث پر محاکمہ ۔ بات پر زور دے گا کہ ان دونوں بزرگوں میں پریم آتما کی جو تھی اور وہ باوجود انسان ہونے کے خدا بھی تھے اور اپنے اندر ایک جہت مخلوقیت کی رکھتے تھے۔ اور ایک جہت خالقیت کی اور مخلوقیت ان کی حادث تھی اور ایساری مخلوقیت کے عوارض بھی یعنی مرتا اور دکھ اٹھانا یا کھانا پینا سب حادثات تھے۔ مگر خالقیت ان کی قدیم ہے اور خالقیت کی صفات بھی