مسیحی انفاس — Page 119
۱۱۹ غرض جب کہ خدا بننے کا یہ قاعدہ ہے کہ کوئی بے گناہ ہو۔ تو عقل تجویز کرتی ہے کہ جس طرح یسوع کے لئے یہ اتفاق پیش آگیا کہ بقول عیسائیاں وہ ایک مدت تک گناہ نہ کر سکا یہ اتفاق دوسرے کے لئے بھی ممکن ہے۔ اور اگر ممکن نہیں تو کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی کہ یسوع کے لئے کیوں ممکن ہو گیا اور دوسروں کے لئے کیوں غیر ممکن ہے۔ یسوع کی انسانیت کو من حیث الانسانیت اقنوم ثانی سے کچھ تعلق نہ تھا صرف اس اتفاق کے پیش آنے سے کہ وہ بقول عیسائیان ایک مدت تک گناہ سے بچ سکا اقنوم ثانی نے اس سے اتحاد کیا۔ سو اس اتحاد کی بنا ایک کسی امر ہے جس میں ہر ایک کسب کنندہ کا اشتراک ہے۔ اور ایک گروہ عیسائیوں کا جس میں عبد اللہ آتھم بھی داخل تھا یہ بھی کہتا ہے کہ اقنوم ثانی کا تیس برس تک یسوع سے ہر گز تعلق نہ تھا صرف کے تھا صرف کبوتر کے نزول کے وقت سے وہ تعلق شروع ہوا۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ یسوع تمیں برس گنہگار اور مرتکب معاصی رہا۔ کیونکہ اگر وہ اس عرصہ میں گناہ سے پاک ہوتا تو قاعدہ مذکورہ بالا کے رو سے لازم تھا کہ پہلے ہی اقنوم ثانی کا تعلق اتحادی اس سے ہو جاتا۔ اور اس جگہ ایک مخالف کہہ سکتا ہے کہ شاید یہی وجہ ہو کہ یسوع کی گذشتہ تیس سال کی زندگی کی نسبت کسی پادری صاحب نے تفصیل وار سوانح کے لکھنے کے لئے قلم نہیں اٹھائی کیونکہ ان حالات کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔ بہر حال یہ تمام دعوے ہی دعوے ہیں۔ ان تمام امور میں سے کسی امر کا ثبوت نہیں دیا گیا نہ کسی نے ثابت کر کے دکھلایا کہ یسوع نے ابتدائی عمر سے آخر تک کوئی گناہ نہیں کیا۔ اور نہ کسی نے یہ ثابت کیا کہ اس بے گناہی کی وجہ سے وہ خدا بن گیا۔ تعجب کہ اس خاص طرز کے خدائی کے لئے جو دنیا کی کثرت رائے کے مخالف اور مشرکانہ طریقوں سے مشابہ تھی کچھ بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اور ظاہر ہے کہ متفق علیہا عقیدہ دنیا میں یہی ہے کہ خدا موت اور تولد اور بھوکھ اور پیاس اور نادانی اور عجز یعنی عدم قدرت اور تخستم اور تحیر سے پاک ہے مگر یسوع ان میں سے کسی بات سے بھی پاک نہ تھا۔ اگر یسوع میں خدا کی روح تھی تو وہ کیوں کہتا ہے کہ ” مجھے قیامت کی خبر نہیں۔ " اور اگر اس کی روح میں جو بقول عیسائیاں اقنوم ثانی سے عینیت رکھتی تھی خدائی پاکیزگی تھی تو وہ کیوں کہتا ہے کہ ” مجھے نیک نہ کہو ۔ " اور اگر اس میں قدرت تھی تو کیوں اس کی تمام رات کی دعا قبول نہ ہوئی اور کیوں اس کا اس نامرادی کے کلمہ پر خاتمہ ہوا کہ اس نے ”ایلی ایلی لما