مسیحی انفاس — Page 114
۱۱۴ ۹۹ لگے اور خدا کو باپ کر کے پکارا نہ جائے اور اگر کوئی کہے کہ پھر باپ سے کم درجہ کی محبت ہوئی تو اس اعتراض کے رفع کرنے کے لئے او اشدّ ذكرًا رکھ دیا۔ اگر اواشد ذكرًا نہ ہوتا تو یہ اعتراض ہو سکتا تھا۔ مگر اب اس نے " اس کو حل کر دیا۔ جو باپ کہتے ہیں وہ کیسے گرے کہ ایک عاجز کو خدا کہہ اٹھے۔ بعض الفاظ ابتلا کے لئے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو نصاری کا ابتلا منظور تھا۔ اس لئے ان کی کتابوں میں انبیاء کی یہ اصطلاح ٹھہر گئی۔ مگر چونکہ وہ حکیم اور علیم اس لئے پہلے ہی سے لفظ اب کو کثیر الاستعمال کر دیا۔ مگر نصاری کی بد قسمتی کہ جب مسیح نے یہ لفظ بولا تو انہوں نے حقیقت پر حمل کر لیا اور دھوکا کھا لیا۔ حالانکہ صحیح نے یہ کہہ کر کہ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ تم الہ ہو اس شرک کو مٹانا چاہا اور ان کو سمجھانا چاہا مگر نادانوں نے پرواہ نہ کی۔ اور ان کی اس تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی ان کو ابن اللہ قرار دے ہی لیا۔ لملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۸۸ بیچ یہی ہے کہ خدا ایک ہے اور ایک ہے اور میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر انجیل اور قرآن کریم اور تمام صحف انبیاء بھی دنیا میں نہ ہوتے تو بھی خدا تعالیٰ کی توحید ثابت تھی کیونکہ اس کے نقوش فطرت انسانی میں موجود ہیں۔ خدا کے لئے بیٹا خدا کے لئے بیٹا تجویز تجویز کرنا گویا خدا تعالیٰ کی موت کا یقین کرنا ہے کیونکہ بیٹا تو اس لئے ہوتا ہے کہ موت کا یقین کرنا وہ یاد گار ہو۔ اب اگر مسیح خدا کا بیٹا ہے تو پھر سوال ہو گا کہ کیا خدا کو مرنا ہے؟ کرنا گویا خدا تعالی کی ہے۔ مختصر یہ ہے کہ عیسائیوں نے اپنے عقائد میں نہ خدا کی عظمت کا لحاظ رکھا اور نہ قوائے انسانی کی قدر کی ہے۔ اور ایسی باتوں کو مان رکھا ہے کہ جن کے ساتھ آسمانی روشنی کی تائید نہیں ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ا صفحه ۳۳۱