مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 632

مسیحی انفاس — Page 112

۱۱۲ پہلی کتابوں نے استعمال کیا ؟ سچے عیسائی کو کسی نیک چلنی کی ضرورت نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ اعمال حسنہ کو نجات میں کچھ بھی دخل نہیں جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی جز رضا مندی الہی کی جو نجات کی جڑ ہے اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ کفارہ ہی کافی ہے۔ اب سوچنے والے سوچ سکتے ہیں کہ جبکہ اعمال کو الہی رضا مندی میں کچھ بھی دخل نہیں تو پھر عیسائیوں کا چال چلن کیونکر درست رہ سکتا ہے۔ جبکہ چوری اور زنا سے پر ہیز کرنا موجب ثواب نہیں تو پھر یہ دونوں فعل موجب مواخذہ بھی نہیں ۔ اب معلوم ہوا کہ عیسائیوں کا بیباک ہو کر بدکاریوں میں پڑنا اسی اصول کی تحریک سے ہے بلکہ اس اصول کی بناء پر قتل و نیز حلف دروغی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ کفارہ جو کافی اور ہریک بدی کا مٹانے والا ہوا۔ حیف ایسے دین و مذہب پر۔ اب سمجھنا چاہئے کہ اب یا باپ کا لفظ جس کو ناحق بے ادبی کی راہ سے عیسائی نادان خدا تعالی پر اطلاق کرتے ہیں لغات مشترکہ میں سے ہے یعنی ان عربی لفظوں میں سے ہے جو تمام ان زبانوں میں پائے جاتے ہیں جو عربی کی شاخیں ہیں اور تھوڑے تغیر و تبدل سے ان میں موجود ہیں چنانچہ در حقیقت فادر اور پتا اور باپ اور پدر وغیرہ اسی عربی لفظ کی خراب شدہ صورتیں ہیں۔ ہیں۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ پھر پہلی کتابوں نے کیوں اطلاق کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہو کہ پہلی اب " کا لفظ کیوں اول تو وہ تمام کتابیں محرف و مبدل ہیں اور ان کا ایسا بیان جو حق اور حقیقت کے برخلاف جو کے بر ہے ہر گز پذیرائی کے لائق نہیں کیونکہ اب وہ کتابیں ایک گندے کیچڑ کی طرح ہیں جس سے پاک طبع انسان کو پر ہیز کرنا چاہئے۔ اور پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ توریت میں بعض جگہ ایسے لفظ موجود تھے تو ممکن ہے کہ ان کے اور بھی معنے ہوں جو باپ کے معنے سے بالکل مخالف ہوں ۔ کیونکہ الفاظ کے معنوں میں وسعت ہوا کرتی ہے۔ پھر اگر قبول بھی کریں کہ اس لغت کے ایک ہی معنے ہیں تو اس وقت یہ جواب ہو سکتا ہے کہ چونکہ بنی اسرائیل اور بعد میں ان کی اور شاخیں اس زمانہ میں نہایت تنزیل کی حالت میں تھیں اور وحشیوں کی طرح وہ زندگی بسر کرتی تھیں اور اس پاک اور کامل معنی کو نہیں سمجھتی تھیں جو رب کے مفہوم میں ہے اس لئے الہام الہی نے ان کی پست حالت کے موافق ایسے لفظوں سے ان کو سمجھایا جن کو وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ توریت میں عالم معاد کی اچھی طرح تصریح نہیں کی گئی اور دنیا کے آراموں کی طمع دی گئی اور