مسیحی انفاس — Page 98
ہو۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا اور کہا ہم تجھے اچھے کام کے لئے نہیں بلکہ اس لئے مجھے پتھراؤ کرتے ہیں کہ تو کفر بکتا ہے اور انسان ہو کے اپنے تئیں خدا بناتا ہے یسوع نے انہیں جواب دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ میں نے کہا تم خدا ہو جبکہ اس نے دیا کیا میں یہ لکھاکہ نے کہا ہوجبکہ انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں نے کہا میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اب ہر ایک منصف اور ہر ایک متدین سمجھ سکتا ہے کہ یہودیوں کا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے باپ کا لفظ سن کر اور یہ کہ میں اور باپ ایک ہیں یہ خیال کر لیا کہ یہ اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا حقیقی طور پر بیٹ قرار دیتا ہے تو اس کے جواب میں حضرت مسیح نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ مجھ میں کوئی زیادہ بات نہیں دیکھو تمہارے حق میں تو خدا کا اطلاق دیا کہ میں زیادہ بھی ہوا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح در حقیقت اپنے تئیں ابن اللہ جانتے اور حقیقی طور سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا بیٹا تصور کرتے تو اس بحث اور پر خاش کے وقت میں جب یہودیوں نے ان پر الزام لگایا تھا مرد میدان ہو کر صاف اور کھلے کھلے طور پر کہہ دیتے کہ میں در حقیقت ابن اللہ ہوں اور حقیقی طور پر خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں بھلا یہ کیا جواب تھا کہ اگر میں اپنے تئیں بیٹا قرار دیتا ہوں تو تمہیں بھی تو خدا کہا گیا ہے بلکہ اس موقعہ پر تو یں اپنے نہیں بینا قرار دیتا ہوں خوب تقویت اپنے اثبات دعوی کی ان کو ملی تھی۔ انہیں اس وقت کہنا چاہئے تھا کہ تم تو اسی قدر بات پر ناراض ہو گئے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ میں تو بموجب تمہاری کتابوں کے اور بموجب فلاں فلاں پیش گوئی کے خدا بھی ہوں ۔ قادر مطلق بھی ہوں ۔ خدا کا ہمتا بھی ہوں ۔ کون سا مرتبہ خدائی کا ہے جو مجھ میں نہیں ہے۔ غرض کہ یہ مقام انجیل شریف کے تمام مقامات اور بائبل کی تمام پیش کہ یہ گوئیوں کو حل کرنے والا اور بطور ان کی تفسیر کے ہے۔ مگر اس کے لئے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ جنگ مقدس۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۶ تا ۱۱۸ حضرت مسیح یوحنا باب ۳۰ ۱۰ میں ۳۷ تک صاف طور پر فرمارہے ہیں کہ مجھ میں اور دوسرے مقربوں اور مقدسوں میں ان الفاظ کی اطلاق میں جو بائبل میں اکثر انبیاء ٨۶ ۹۸