مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 632

مسیحی انفاس — Page 96

۹۶ ۸۳ وہ اسی سے قدوس اور ذوالجلال کہلاتا ہے کہ وہ ایسے عیبوں اور نقصانوں سے بھرا ہوا ہے۔ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلدا صفحه ۴۳۸ تا ۴۴۲ - بقیه حاشیه ۱۱ مشرک لوگ ایسے نادان ہیں کہ جنات کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اس کے لئے بغیر کسی علم اور ا علم اور اطلاع حقیقت حال کے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھتی ہیں اور یہود کہتے کہ عزیز خدا کا بیٹا ہے اور نصاری مسیح کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں یہ سب ان کے مونہہ کی باتیں ہیں یہ کے جن کی صداقت پر کوئی حجت قائم نہیں کر سکتے بلکہ صرف پہلے زمانہ کے مشرکوں کی ریس کر رہے ہیں۔ ملعونوں نے سچائی کا راستہ کیسا چھوڑ دیا اپنے فقیہوں اور درویشوں اور کا مریم کے بیٹے کو خدا ٹھہرا لیا ہے حالانکہ حکم یہ تھا کہ فقط خدائے واحد کی پرستش کرو خدا اپنی خدا تعالی کی ذات میں ذات میں کامل ہے اس کو کچھ حاجت نہیں کہ بیٹا بنا دے۔ کونسی کسر اس کی ذات میں رہ امل ہےاس کو کچھ حاجت نہیں کی وہی کرو گی تم ہو گئی تھی جو بیٹے کے وجود سے وری ہوگئی اوراگر کوئی کر نہیں تھی پھر کیا بیابان میں خدا بیٹے کے وجود سے پوری ہو گئی۔ ۸۲ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزدیک ابن الله کے معنے ۔ ایک فضول حرکت کرتا جس کی اس کو کچھ ضرورت نہ تھی وہ تو ہر یک عبث کام اور ہریک حالت نا تمام سے پاک ہے جب کسی بات کو کہتا ہے ہو تو ہو جاتی ہے۔ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلدا صفحه ۵۲۴ بقیه حاشیه در حاشیه ۳ پھر صاحب موصوف تحریر فرماتے ہیں کہ توریت میں مسیح کو یک تن اور انبیاء کو یک من کر کے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ توریت میں نہ تو کہیں یک تن کا لفظ ہے اور نہ یک من کا۔ صاحب موصوف کی بڑی مہربانی ہوگی کہ یہ تشریح توریت کی رو رو سے سے ثابت کریں کہ توریت نے جب دوسرے انبیاء کا نام ابناء اللہ رکھا تو اس سے مراد یک من ہونا تھا۔ اور جب مسیح علیہ انبیاء کا اماءاللہ رکھاتو اس سے من ہوتا السّلام کا نام ابن اللہ رکھا تو اس کا لقب یک تن رکھ دیا۔ میری دانست میں تو اور انبیاء حضرت مسیح علیہ السلام سے اس القاب یابی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح خود اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ اور فرماتے ہیں کہ میرے ابن اللہ کہنے میں تم کیوں رنجیدہ ہو گئے یہ کونسی بات تھی زبور میں تو لکھا ہے کہ تم سب اللہ ہو۔ ضرت مسیح کے اپنے الفاظ جو یوحنا • ا باب ۳۵ میں لکھے ہیں یہ ہیں کہ میں نے کہا تم