فقہ المسیح — Page 32
فقه المسيح 32 علم فقہ اور فقہاء مسلمانوں کو پراگندہ ہو جانے سے محفوظ رکھا۔ پس یہ امام مسلمانوں کے لئے بطور ایک چار دیواری کے رہے ہیں اور ہم ان کی قدر کرتے اور ان کی بزرگی اور احسان کے معترف ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو سارے اماموں کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے مگر امام ابو حنیفہ کو خصوصیت کے ساتھ علم و معرفت میں بڑھا ہوا سمجھتے تھے اور ان کی ( سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 334) قوت استدلال کی بہت تعریف فرماتے تھے۔ ایک موقع پر فرمایا :۔ امام شافعی اور حنبل وغیرہ کا زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس وقت بدعات شروع ہو گئی تھیں ۔ اگر اس وقت یہ نام نہ ہوتے تو اہلِ حق اور ناحق میں تمیز نہ ہو سکتی ۔ ہزا رہا گندے آدمی ملے جلے رہتے ۔ یہ چار نام اسلام کے واسطے مثل چار دیواری کے تھے۔ اگر یہ لوگ پیدا نہ ہوتے تو اسلام ایسا مشتبہ مذہب ہو جا تا کہ بدعتی اور غیر بدعتی میں تمیز نہ ہو سکتی ۔ ائمہ اربعہ برکت کا نشان تھے بدر 3 نومبر 1905 ء صفحہ 4) میری رائے میں ائمہ اربعہ ایک برکت کا نشان تھے۔ اُن میں روحانیت تھی، کیونکہ روحانیت تقوی سے شروع ہوتی ہے اور وہ لوگ در حقیقت متقی تھے اور خدا سے ڈرتے تھے اور اُن کے دل کلاب الدنیا سے مناسبت نہ رکھتے تھے ۔ حضرت امام ابو حنیفہ کا عالی مقام )2 الحکم 24 ستمبر 1901ء صفحہ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت امام ابو حنیفہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا بعض ائمہ نے احادیث کی طرف توجہ کم کی ہے جیسا کہ امام اعظم کو فی رضی اللہ عنہ جن کو ا اصحاب الرائے میں سے خیال کیا گیا ہے اور ان کے مجتہدات کو بواسطہ دقت معانی احادیث