فقہ المسیح — Page 28
فقه المسيح 28 فقہ احمد یہ کے ماخذ حدیث کے بارہ میں افراط کی طرف جھکیں اور نہ عبداللہ کی طرح تفریط کی طرف مائل ہوں بلکہ اس بارہ میں وسط کا طریق اپنا مذہب سمجھ لیں یعنی نہ تو ایسے طور سے بکلی حدیثوں کو اپنا قبلہ و کعبہ قرار دیں جس سے قرآن متروک اور مہجور کی طرح ہو جائے اور نہ ایسے طور سے ان حدیثوں کو معطل اور لغوقراردیدیں جن سے احادیث نبویہ بکلی ضائع ہو جائیں ۔ ہماری مسلمہ کتا بیں ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ۔ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 212 ،213) ہماری کتب مسلّمہ مقبولہ جن پر ہم عقیدہ رکھتے ہیں اور جن کو ہم معتبر سمجھتے ہیں ہ تفصیل ذیل ہیں۔ اول ، قرآن شریف ۔ مگر یادر ہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں ۔ کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آسکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفتر ہو۔ غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز نہیں ۔ پس ہر یک معترض پر لازم ہوگا کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے ۔ دوم، دوسری کتا بیں جو ہماری مسلم کتا بیں ہیں اُن میں اوّل درجہ پر صحیح بخاری ہے درجہ پرصحیح اور اس کی وہ تمام احادیث ہمارے نزدیک حجت ہیں جو قرآن شریف سے مخالف نہیں اور اُن میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو ۔ اور تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی ، ا رے درجہ پر پیچ ترندی ، ابن ماجہ ، موطا ، ، موطا ، نسائی ، ابو داؤد، دار قطنی کتب حدیث ہیں جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں ۔ یہ کتابیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں اور یہ شرائط ہیں جن کی