فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 611

فقہ المسیح — Page 26

فقه المسيح کیا خبر واحد واجب العمل ہے؟ 26 فقہ احمد یہ کے ماخذ حنفیوں کا ہرگز یہ مذہب نہیں کہ مخالفت قرآن کی حالت میں خبر واحد واجب العمل ہے اور نہ شافعی کا یہ مذہب ہے بلکہ فقہ حنفیہ کا تو یہ اصول ہے کہ جب تک اکثر قرنوں میں تواتر حدیث کا ثابت نہ ہو گو پہلے قرن میں نہیں مگر جب تک بعد میں اخیر تک تو اتر نہ ہو تب تک ایسی حدیث کے ساتھ قرآن پر زیادت جائز نہیں اور شافعی کا یہ مذہب ہے کہ اگر حدیث آیت کے مخالف ہو تو با وجود تواتر کے بھی کالعدم ہے۔ الحق مباحثہ لدھیانہ ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 94) احاد احادیث مخالف قرآن ہوں تو قابل قبول نہیں علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے اور نہ اس پر زیادت کرتے ہیں اور امام شافعی حدیث متواتر کو بھی بمقابلہ آیت کا لعدم سمجھتا ہے اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد سے بشرط نہ ملنے آیت کے قیاس مقدم ہے ۔ دیکھو صفحہ ۱۵۰ کتاب نورالانوار اصول فقہ ۔ اس صورت میں جو کچھ ان اماموں کی نظر میں در صورت قرآن کے مخالف ہونے کے احادیث کی عزت ہو سکتی ہے عیاں ہے خواہ اس قسم کی حدیثیں اب بخاری میں ہوں یا مسلم میں ۔ یہ ظاہر ہے کہ بخاری اور مسلم اکثر مجموعہ احاد کا ہے اور جب احاد کی نسبت امام مالک اور امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی یہی رائے ہے کہ وہ قرآن کے مخالف ہونے کی حالت میں ہرگز قبول کے لائق نہیں تو اب فرمائیے کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وہ حدیثیں بہر حال واجب العمل ہیں ؟ اول حنفیوں اور مالکیوں وغیرہ سے ان سب پر عمل کرائے الحق مباحثہ لدھیانہ ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 99) اور پھر یہ بات منہ پر لائے ۔ قیاسات مسلمہ مجتہدین واجب العمل ہیں ! میں تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے کسی ایک حکم میں بھی دوسرے مسلمانوں سے