فقہ المسیح — Page 19
فقه المسيح 19 فقہ احمد یہ کے ماخذ ہیں وہ اس اجماع سے منکر ہیں ۔ ماسوا اس کے آپ صاحبان ہی فرمایا کرتے ہیں کہ حدیث کو بشرط صحت ماننا چاہئے اور قرآن کریم پر بغیر کسی شرط کے ایمان لانا فرض ہے۔ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 41) خبر واحد سے قرآن پر زیادت ہو سکتی ہے میرا مذہب امام شافعی اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے مؤکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے اس لالہ اسے اس لائق قرار دیتا ہوں کہ یتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں مگر یادر ہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان ۔۔۔۔۔۔ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کر چکا ہوں ۔ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 100 ) حدیث سے مراد ۔ واقعات ماضیه و اخبار گزشتہ و آئندہ ایسی احاد حدیثیں جو سنن متوارثہ متعاملہ میں سے نہیں ہیں اور سلسلۂ تعامل سے کوئی معتد بہ تعلق نہیں رکھتیں وہ اس درجہ صحت سے گری ہوئی ہیں ۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ ایسی حدیثیں صرف اخبار گزشتہ و قصص ماضیہ یا آئندہ ہیں ۔۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور احکام متداولہ کے نکالنے کے بعد جو احادیث بکلی فرضیت تعامل سے باہر رہ جاتے ہیں وہ یہی واقعات واخبار و قصص ہیں جو تعامل کے تاکیدی سلسلہ سے باہر ہیں ۔ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 82) حدیث، جو معارض قرآن نہ ہو قابل قبول ہے اگر نہایت ہی نرمی کریں تو ان حدیثوں کو ظن کا مرتبہ دے سکتے ہیں اور یہی محدثین کا