فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 611

فقہ المسیح — Page 12

فقه المسيح 12 فقہ احمد یہ کے ماخذ اب میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ بخاری اور مسلم کی احادیث کی نسبت جو اجماع کا دعوی کیا جاتا ہے یہ دعوی کیونکر راستی کے رنگ سے رنگیں سمجھ سکیں؟ حالانکہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ صحابہ کے بعد کوئی اجماع حجت نہیں ہو سکتا۔ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 19 ،20) بخاری اور مسلم کی صحت پر ہرگز اجماع نہیں ہوا بہت سے فرقے مسلمانوں کے بخاری اور مسلم کی اکثر حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتے ۔ پھر جب کہ ان حدیثوں کا یہ حال ہے تو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ بغیر کسی شرط کے وہ تمام حدیثیں واجب العمل اور قطعی الصحت ہیں ؟ ایسا خیال کرنے میں دلیل شرعی کونسی ہے؟ کیا کوئی قرآن کریم میں ایسی آیت پائی جاتی ہے کہ تم نے بخاری اور مسلم کو قطعی الثبوت سمجھنا؟ اور اس کی کسی حدیث کی نسبت اعتراض نہ کرنا ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت تحریری موجود ہے جس میں ان کتابوں کو بلا لحاظ کسی شرط اور بغیر توسط محک کلام الہی کے واجب العمل ٹھہرایا گیا ہو؟ جب ہم اس امر میں غور کریں کہ کیوں ان کتابوں کو واجب العمل خیال کیا جاتا ہے تو ہمیں یہ وجوب ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے حنفیوں کے نزدیک اس بات کا وجوب ہے کہ امام اعظم صاحب کے یعنی حنفی مذہب کے تمام مجندات واجب العمل ہیں ! لیکن ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ یہ وجوب شرعی نہیں بلکہ کچھ زمانہ سے ایسے خیالات کے اثر سے اپنی طرف سے یہ وجوب گھڑا گیا ہے جس حالت میں حنفی مذہب پر آپ لوگ یہی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نصوص بینہ شرعیہ کو چھوڑ کر بے اصل اجتہادات کو محکم پکڑتے اور ناحق تقلید شخصی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں ہو سکتا کہ آپ بھی کیوں بے وجہ تقلید پر زور مار رہے ہیں؟ حقیقی بصیرت اور معرفت کے کیوں طالب نہیں ہوتے؟ ہمیشہ آپ لوگ بیان کرتے تھے کہ جو حدیث صحیح ثابت ہے اس پر عمل کرنا چاہئے اور جو غیر صحیح ہو اس کو چھوڑ دینا چاہئے ۔ اب کیوں آپ مقلدین کے رنگ پر تمام احادیث کو بلا شرط صحیح خیال کر بیٹھے ہیں ؟ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 20، 21)