فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 611

فقہ المسیح — Page 10

فقه المسيح سے انکار کروں! 10 بخاری اور مسلم محد ثین کا اجتہاد ہے فقہ احمد یہ کے ماخذ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 21) آپ کا سوال ( مراد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں ۔ ناقل ) جو اس تحریر اور پہلی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے یہ ہے کہ احادیث کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری و صحیح مسلم صحیح و واجب العمل ہیں یا غیر صحیح ونا قابل عمل اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے منہ سے یہ کہلانا چاہتے ہیں کہ میں اس بات کا اقرار کروں کہ یہ سب کتابیں صحیح اور واجب العمل ہیں۔ اگر میں ایسا کروں تو غالباً آپ خوش ہو جائیں گے اور فرمائیں گے کہ اب میرے سوال کا جواب پورا پورا آگیا۔ لیکن میں سوچ میں ہوں کہ میں کسی شرعی قاعدہ کے رو سے ان تمام حدیثوں کو بغیر تحقیق و تفتیش کے واجب العمل یا صحیح قرار دے سکتا ہوں ؟ طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کا ملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ کیا جاوے اللہ جل شانۂ فرماتا ہے۔ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل (37) سوال اسواگر میں دلیری کر کے اس معاملہ میں دخل دوں اور یہ کہوں کہ میرے نزدیک جو کچھ محدثین خصوصاً امامین بخاری اور مسلم نے تنقید احادیث میں تحقیق کی ہے اور جس قد را حادیث وہ اپنی صحیحوں میں لائے ہیں وہ بلا شبہ بغیر حاجت کسی آزمائش کے صحیح ہیں تو میرا ایسا کہنا کن شرعی وجوہات و دلائل پر مبنی ہو گا ؟ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام ائمہ حدیثوں کے جمع کرنے میں ایک قسم کا اجتہاد کام میں لائے ہیں اور مجتہد بھی مصیب اور کبھی مخطی بھی ہوتا ہے۔ جب میں سوچتا ہوں کہ ہمارے بھائی مسلمان موحدین نے کس قانون قطعی اور یقینی کی رو سے ان تمام احادیث کو واجب العمل ٹھہرایا ہے؟ تو میرے اندر سے نور قلب یہی شہادت دیتا ہے کہ صرف یہی اک وجہ ان کے واجب العمل ہونے کی پائی جاتی ہے کہ