فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 611

فقہ المسیح — Page 8

فقه المسيح 8 فقہ احمد یہ کے ماخذ ہے۔ پس صحیح اور سچا طریق تو یہی ہے کہ جیسے حدیثیں صرف ظن کے مرتبہ تک ہیں بجز چند حدیثوں کے۔ تو اسی طرح ہمیں ان کی نسبت ظن کی حد تک ہی ایمان رکھنا چاہئے ۔ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 15) آپ خود اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ چکے ہیں کہ احادیث کی نسبت بعض اکابر کا یہ مذہب ہوا ہے ۔ ”کہ ایک مہم شخص ایک صحیح حدیث کو بالہام الہی موضوع ٹھہر اسکتا ہے اور ایک موضوع حدیث کو بالہام الہی صحیح ٹھہرا سکتا ہے ۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم مان لیں گے ؟ ہاں یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ ظنی طور پر بخاری اور مسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالب اکثر ان میں صحیح ہوں گی ۔ لیکن کیونکر ہم اس بات پر حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلا شبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں جب کہ وہ صرف ظنی طور پر صحیح ہیں نہ یقینی طور پر تو پھر یقینی طور پر ان کا صحیح ہونا کیونکر مان سکتے ہیں ! الحق مباحثہ لدھیانہ ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 15) مذاہب اربعہ کا اختلاف احادیث کی بنیاد پر ہی ہے میرامذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ظنی طور پر صحیح ہیں۔ مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہو گی وہ صحت سے باہر ہو جائے گی۔ آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں تھی بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ بلا شبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا ادعائے باطل ہے۔ دنیا میں جو اس قدر مخالف فرقے اہل اسلام میں ہیں خاص کر مذاہب اربعہ ان چاروں مذہبوں کے اماموں نے اپنے عملی طریق سے خود گواہی دے دی ہے کہ یہ