فقہ المسیح — Page 2
فقه المسيح 2 فقہ احمد یہ کے ماخذ کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کس کس تعداد پر لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ہے ۔ یہ دھو کہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے کیونکہ حدیث تو سو ڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے ۔ خدا اور رسول کی ذمہ داری کا فرض صرف دو امر پر تھے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دے یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ خدا کے کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گفتنی باتیں کر دنی کے پیرا یہ میں دکھلا دیں اور اپنی سنت یعنی عملی کارروائی سے معضلات اور مشکلات مسائل کو حل کر دیا ۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61) جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے ایسا ہی سُنّت کی اقامت کے لئے بھی مامور تھے۔ پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے۔ یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجالائے۔ ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی ۔ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 210) ۔ سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لئے لاتے ہیں تو اپنے عملی فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں۔ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 209-210)