فقہ المسیح — Page xlviii
حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں؟ فرمایا میرا مذہب یہ ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔ عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں ، خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو۔ اس میں قصر وسفر کے مسائل پر عمل کرے ۔ اِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں ، مگر کسی کے دل میں خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھری اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے ۔ شریعت کی بنا دقت پر نہیں ہے ۔ جس کو تم عُرف میں سفر سمجھو، وہی سفر ہے۔“ 66 )13 الحکم 17 فروری 1901ء صفحہ اسی طرح خرید و فروخت کے معاملات میں بھی عرف کا خیال رکھنا ضروری ہے جو مروجہ قانون ہو اور سب لوگ اس پر عمل کر رہے ہوں اور کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہ ہو تو اس ٹحرف پر بھی عمل کرنا چاہئے ۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ ریلی برادرز وغیرہ کارخانوں میں سرکاری سیراسی روپیہ کا دیتے ہیں اور لیتے اکاسی روپیہ کا ہیں کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا وو جن معاملات بيع وشراء میں مقدمات نہ ہوں ، فساد نہ ہوں تراضی فریقین ہو اور سرکار نے بھی جرم نہ رکھا ہو عرف میں جائز ہو وہ جائز ہے۔“ )19 الحلم 10 اگست 1903 ء صفحہ( 14 - حكومت وقت کی اطاعت کی تعلیم مسلمانوں کے جس ادبار اور پستی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے اس دور میں مسلمان سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، ہر لحاظ سے پسماندہ ہو چکے تھے ۔ اپنے سابقہ شاندار ماضی کو یاد کرتے ہوئے محکومی اور کمزوری ان کے لئے بھاری ہو رہی تھی ۔ جس دور 26