فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xliv of 611

فقہ المسیح — Page xliv

حرف آغاز حضور پسند نہ فرماتے تھے ۔“ حکم عدل کا فقہی اسلوب ( سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 198) عام طور پر عیسائیوں ، ہندوؤں اور دیگر اقوام کے ساتھ معاشرت کے لحاظ سے تعلقات رکھے جاتے تھے لیکن جہاں دینی غیرت کا معاملہ آتا تھا وہاں اس حد تک ان سے قطع تعلق کیا جاتا تھا جب تک کہ وہ اپنے طریق عمل کو نہ بدل لیں ۔ ایک ایسے ہی موقعہ پر حضور سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور معانقہ کرنا جائز ہے؟ حضور نے فرمایا : ” میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے کہ وہ لوگ ہمارے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہم اُن سے معانقہ کریں۔ قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع فرماتا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ خنز بر خور ہیں ۔ ان کے ساتھ وو کھانا کھانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ )10( ام 17 راگست 1902 ء صفحہ 11۔ خشک مسائل سے اجتناب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو اسلام کی سچی اور حقیقی تعلیم پر عمل کرنے کی ہدایت دی۔ عام طور پر لوگ جزوی ، فروعی اور خشک مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور حقیقت سے دور جاپڑتے تھے ۔ حضور نے ایسے بعض پیش آمدہ مسائل میں غیر حقیقی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی ۔ روایتی کتب فقہ میں چونکہ ایسے مسائل موجود تھے جنہیں پڑھ کر بعض لوگ سمجھتے تھے کہ ہمیں بہت علم حاصل ہو گیا ہے اور اب ہم فقہ کے ماہر بن گئے ہیں اس لئے وہ ان مسائل کی ظاہری صورتوں پر ہی زور دیتے رہتے تھے ۔ خاص طور پر حنفیوں میں یہ کمزوری تھی اور اپنے اس طرز عمل پر وہ بے جا فخر بھی کرتے تھے اور اپنے آپ کو مقلد کہتے تھے ۔ اسی لئے آپ نے بعض ایسے روایتی فقہی مسائل سے احتراز فرمایا ۔ مثلاً 22