فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 611

فقہ المسیح — Page 332

فقه المسيح 332 سود، انشورنس اور بینکنگ نہیں ہوتی اس لئے جائز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتوی موجود ہے۔ آپ نے فرمایا ہے پراویڈنٹ فنڈ جہاں مجبور کر کے جمع کرایا جاتا ہے وہاں اس رقم پر جو زائد ملے وہ لے لینا چاہئے۔ اخبار کی پیشگی قیمت کم اور ما بعد زیادہ وصول کرنا الفضل 7 جنوری 1930 ء صفحہ 4) مورخہ 14 فروری 1907ء کے اخبار بدر میں ایڈیٹر صاحب کی طرف سے یہ اعلان شائع ہوا کہ اخبار کی پیشگی قیمت کم اور مابعد قیمت زیادہ ہوگی ۔ چنانچہ انہوں نے لکھا اخبار کی قیمت اگر پیشگی وصول کی جائے تو اخبار کے چلانے میں سہولت ہوتی ہے ۔ جو لوگ پیشگی قیمت نہیں دیتے اور بعد کے وعدے کرتے ہیں ان میں سے بعض تو صرف وعدوں پر ہی ٹال دیتے ہیں اور بعض کی قیمتوں کی وصولی کے لئے بار بار کی خط و کتابت میں اور ان سے قیمتیں لینے کے واسطے یادداشتوں کے رکھنے میں اس قدر وقت ہوتی ہے کہ اس زائد محنت اور نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کے واسطے اور نیز اس کا معاوضہ وصول کرنے کے واسطے اخبار بدر کی قیمت ما بعد کے نرخ میں ایک روپیہ زائد کیا گیا ہے ۔ یعنی ما بعد دینے والوں سے قیمت اخبار بجائے تین روپے کے چار روپے وصول کئے جائیں گے ۔ یہ معاملہ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ اس کا جواب حضرت صاحب نے مندرجہ ذیل لکھا ۔ میرے نزدیک اس سے سود کو کچھ تعلق نہیں ۔ مالک کا اختیار ہے کہ جو چاہے قیمت طلب کرے، خاص کر بعد کی وصولی میں حرج بھی ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے۔ یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے۔“ 66 ( بدر 14 فروری 1907 ء صفحہ 4 )4(1907ء