فقہ المسیح — Page 327
فقه المسيح 327 سود، انشورنس اور بینکنگ جنگ پیش آوے تو توپ بندوق کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے۔ انشورنس یا بیمه انشورنس اور بیمہ پر سوال کیا گیا۔ فرمایا: (بدر 6 فروری 1908 ء صفحه (7) سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے۔ قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی ۔ دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں ۔ مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر میں آیا ہوگا ۔ پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا ۔ خدا کا نام ستا ر بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راستباز کم ہوتے ہیں ۔ مستور الحال بہت ہوتے ہیں ۔ یہ بھی قرآن میں لکھا ہے وَلَا تَجَسَّسُوا (الحجرات : 13) یعنی تجسس مت کیا کرو ور نہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔ لائف انشورنس )76( البدر 27 مارچ 1903ء صفحہ ایک دوست کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا کہ مارچ 1900ء میں ، میں نے اپنی زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپے کے کرایا تھا۔ شرائط یہ تھیں کہ اس تاریخ سے تا مرگ میں چھیالیس روپے سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا۔ تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ کے میرے وارثان کو ملے گا اور زندگی میں یہ روپیہ لینے کا حقدار نہ ہوں گا۔ اب تک میں نے تقریباً مبلغ چھ سوروپیہ کے بیمہ کرنے والی کمپنی کو دے دیا ہے۔ اب اگر میں اس