فقہ المسیح — Page xxxviii
حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب زور سے وہ آج کل پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم م ہے گویا احکام قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانون فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے اور بینائی دلی اور بصیرت قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے۔“ براهین احمدیہ ہر چہار خصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 81 ، 82) اپنے موقف کے حق میں آپ نے زور دار دلائل بیان فرمائے ۔ تعدّ دازدواج ہو یا ورثہ کی تعلیم جہاں عورتوں کے لئے نصف حصہ جائیداد میں مقرر ہے سب کے عقلی جواب دیئے ۔ متعہ کا اعتراض ہو یا متبنی بنانے کا مسئلہ ہر ایک بات کی حقیقت کھول کر رکھ دی ۔ نیوگ پر آپ کی طرف سے اُٹھائے جانے والے اعتراضات ہوں یا اُن کے جواب میں حلالہ کے مسئلہ کی آڑ لے کر دشمنوں کا جوابی اعتراض ہو ہر مسئلہ کو نکھار کر رکھ دیا۔ آپ نے ارکانِ نماز کی حکمتیں بیان فرمائیں اور وضو اور نماز کے باطنی فوائد کے علاوہ ظاہری طبی فوائد بھی بیان فرمائے ۔ اوقات نماز کی فلاسفی بیان فرمائی اور ثابت فرمایا کہ نماز کے متفرق اوقات زندگی کے حقائق اور حالات کے مطابق ہیں۔ بچے کے کان میں اذان ینے کا مسئلہ ہو یا نماز با جماعت میں اہری مضمر فوائد ہوں اور حج کی حکمتیں سب مسائل کو عقلی دلائل سے پیش فرمایا۔ آپ نے اپنی تحریرات اور تقاریر میں منقولی اور معقولی ہر دو طرح کے دلائل پیش فرماتے ہوئے اعتراضات کے جواب دیئے ۔ اور ایسے معترضین کو جو منقولی دلائل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے عقلی دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی ۔ فرمایا وو یہ بات احلی بدیہات ہے جو سر گشتہ عقل کو عقل ہی سے تسلی ہو سکتی ہے اور جو عقل کا رہنزدہ ہے وہ عقل ہی کے ذریعہ سے راہ پر آ سکتا ہے۔“ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 67) پردہ کے مسئلہ کو معقول اور فطرت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے آپؐ نے انسانی کو ضرورتوں کی مثال پیش فرمائی۔ فرمایا : 16